27ویں آئینی ترمیم کی تجویز کے تحت اٹھارہویں آئینی ترمیم کے آرٹیکل 160 (3 اے) میں تبدیلی کی کوشش کی گئی تھی جس کے مطابق ہر نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی ) ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ میں دیے گئے حصے سے کم نہیں ہونا چاہیے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث یہ ترمیم مؤخر کر دی گئی جو حکومت کی اہم اتحادی جماعت ہے اور جس کی حمایت کے بغیر ترمیم کے دیگر شقیں منظور نہیں ہوسکتیں۔اس صورتحال نے وزیراعظم شہباز شریف کو این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دینے پر مجبور کیا، ایک ایسا نظریہ جس کی بھرپور حمایت کی جانی چاہیے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ این ایف سی فارمولا آبادی کو 82 فیصد اہمیت دیتا ہے جس پر منگل کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے منعقدہ ڈیٹا فیسٹ 2025 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ این ایف سی کا وہ ترغیبی عنصر جو آبادی میں اضافے کو بڑھاوا دیتا ہے اور فی الحال صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم میں اہم بنیاد کے طور پر کام کر رہا ہے اسے ختم کیا جانا چاہیے۔
اگرچہ آبادی کو دی جانے والی اہمیت میں کمی ساتویں این ایف سی ایوارڈ (2010) میں کی گئی تھی اور اس کے لیے پنجاب کی منظوری ضروری تھی جو اس وقت کے فارمولے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا صوبہ تھا، تاہم اس وقت کی رپورٹس سے معلوم ہوا کہ ایوارڈ میں مزید ترامیم کی ضرورت پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بات چیت ہوئی، کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔
این ایف سی ایوارڈ میں غربت اور پسماندگی کے لیے 10.3 فیصد مختص کیا گیا تھا اور اس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ غربت کی شرح نہ صرف صوبوں کے درمیان بلکہ ایک ہی صوبے کے اندر بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بھارت نے اپنے فارمولے میں جی ڈی پی کے انورس فیکٹر کو شامل کیا ہے، یعنی وہ ریاستیں جن کی جی ڈی پی کم ہوگی، انہیں زیادہ حصہ دیا جائے گا۔
تاہم پاکستان کے معاملے میں، یہ قدرے پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ اصل جی ڈی پی ایک صوبے سے پیدا ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر بلوچستان کے معدنیات سے حاصل ہونے والے وسائل، یا ایک صوبے میں بنائے گئے ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی جو دوسرے صوبے کو فراہم کی جاتی ہے، جس کے لیے وسائل کی تقسیم کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال ورلڈ بینک کے مطابق غربت کی سطح 42 فیصد تک بڑھ جانے کے پیش نظر، اس اہمیت کے عنصر پر بھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
این ایف سی ایوارڈ میں 5 فیصد آمدنی کے حصول کے لیے مختص کیا گیا ہے جس سے سندھ کو فائدہ ہوا جب تک یہ ملک کا واحد بندرگاہی صوبہ تھا۔ تاہم گوادر کی تعمیر کے ساتھ یہ صورت حال بدل گئی ہے حالانکہ اس بندرگاہ میں ٹریفک ابھی کم ہے۔ آخر میں 2.7 فیصد وزن انورس پاپولیش ڈینسیٹی کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کا تعین رقبہ کو آبادی سے تقسیم کر کے کیا جاتا ہے۔ اس کی منطق یہ ہے کہ کم آبادی والے علاقوں میں ترقی کے لیے زیادہ وسائل درکار ہوں گے اور پاکستان کے معاملے میں اس سے بلوچستان کو فائدہ پہنچے گا۔
اس لیے این ایف سی فارمولے میں بڑی تبدیلیاں لانے کی ایک اہم ضرورت ہے ، 1973 کے آئین کے بانیوں کی طرف سے یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ایوارڈ کی منظوری لازمی طور پر پانچ سال سے زیادہ کے وقفے سے نہیں ہونی چاہیے۔ بزنس ریکارڈر تجویز دیتا ہے کہ کسی بھی ایک معیار کے لیے اہمیت 40 فیصد سے زیادہ نہ رکھا جائے تاکہ پانچ سالہ ایوارڈ کی ترامیم آسانی سے کی جاسکیں، آسان اس لیے کیونکہ ایسی ترامیم سے کسی ایک صوبے کی طرف سے زیادہ مزاحمت پیدا نہیں ہوگی اور اس کے ساتھ ملک کی معیشت اور ہر وفاقی اکائی کی معیشت کی ترقی کے ساتھ یہ وزن ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.