سابق بنگلادیشی وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے مقدمے کا فیصلہ 17 نومبر کو سنایا جائے گا
- اگر وہ مجرم قرار پائیں تو انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش کی عدالت مفرور سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کا فیصلہ 17 نومبر کو سنائے گی، چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے جمعرات کو تصدیق کی ہے۔
78 سالہ حسینہ واجد پر الزام ہے کہ انہوں نے 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی حکومت مخالف بغاوت کو دبانے کی کوشش میں سیکیورٹی فورسز کو ہلاکت خیز کارروائی کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
تاج الاسلام نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انصاف قانون کے مطابق ہوگا، ہم ایک طویل مرحلہ طے کرچکے ہیں اور اب فیصلے کے آخری مرحلے میں ہیں۔
شیخ حسینہ کے خلاف یہ مقدمہ، جو یکم جون کو ان کی غیرموجودگی میں شروع ہوا، میں کئی ماہ کی گواہیاں سنی گئیں جن میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کا حکم دیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جولائی سے اگست 2024 کے دوران ان کی حکومت برقرار رکھنے کی ناکام کوشش میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے۔
پراسیکیوشن نے حسینہ پر پانچ سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں قتل روکنے میں ناکامی بھی شامل ہے، جو بنگلہ دیشی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اگر وہ مجرم قرار پائیں تو انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
حسینہ واجد نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے اپنے مقدمے کو قانونی مذاق قرار دیا ہے۔ ان کے ساتھ شریکِ مقدمہ سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق پولیس سربراہ چودھری عبداللہ المامون ہیں۔ اسد کمال بھی مفرور ہیں جبکہ عبداللہ المامون زیرِ حراست ہیں اور اعترافِ جرم کر چکے ہیں۔
دوسری جانب، فروری میں ہونے والے انتخابات سے قبل ملک میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے جمعرات کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، جبکہ عدالت کے اطراف سیکیورٹی فورسز، بکتر بند گاڑیوں اور چیک پوسٹس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔
گزشتہ دنوں دارالحکومت ڈھاکا میں بم حملوں کی متعدد وارداتیں ہوئیں، جن میں سرکاری عمارتوں، بسوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ کو میڈیا سے گفتگو کی اجازت نہ دے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ایک مفرور مجرم کو پناہ دینا اور اسے نفرت پھیلانے کا پلیٹ فارم دینا دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔


Comments
Comments are closed.