BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.23 (0.39%)
BIPL 25.43 Increased By ▲ 0.23 (0.91%)
BOP 34.51 Increased By ▲ 0.52 (1.53%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 196.09 Increased By ▲ 3.12 (1.62%)
FABL 89.99 Increased By ▲ 0.20 (0.22%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
GGL 19.07 Increased By ▲ 0.10 (0.53%)
HBL 287.15 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
HUBC 215.38 Increased By ▲ 1.00 (0.47%)
HUMNL 10.80 Decreased By ▼ -0.08 (-0.74%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.16 (0.57%)
MLCF 87.51 Increased By ▲ 1.00 (1.16%)
OGDC 322.50 Increased By ▲ 2.54 (0.79%)
PAEL 40.24 Increased By ▲ 0.82 (2.08%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.48 (2.88%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 5.94 (2.23%)
PPL 230.48 Increased By ▲ 2.30 (1.01%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 70.09 Increased By ▲ 0.38 (0.55%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.06 (0.51%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

پی ٹی اے نے وی پی این سروس فراہم کنندگان کیلئے لائسنسنگ کا آغاز کردیا

  • متعدد کمپنیوں کو کلاس لائسنس جاری، مقصد محفوظ اور قانونی وی پی این خدمات کی فراہمی کو منظم بنانا ہے
شائع November 13, 2025 اپ ڈیٹ November 13, 2025 10:49am

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بحال شدہ کلاس ویلیو ایڈڈ سروسز (سی وی اے ایس۔ ڈیٹا) لائسنسنگ نظام کے تحت ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروس فراہم کنندگان کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔

پی ٹی اے نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں محفوظ اور قانونی وی پی این خدمات کی فراہمی کو منظم بنانا اور قومی قوانین و ضوابط کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سیکیورٹی کے معیار کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔

اتھارٹی نے متعدد کمپنیوں کو کلاس لائسنس جاری کیے ہیں، جن میں الفا 3 کیوبک (پرائیویٹ) لمیٹڈ (اسٹیر لوسڈ)، زیٹا بائٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ (کریسٹ وی پی این)، نیکسیلیم ٹیک (ایس ایم سی-پرائیویٹ) لمیٹڈ (کیسٹرل وی پی این)، یو کے آئی کونک سولیوشنز (ایس ایم سی-پرائیویٹ) لمیٹڈ (کوئیکسور وی پی این)، اور وژن ٹیک 360 (پرائیویٹ) لمیٹڈ (کرپٹونائم وی پی این) شامل ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق یہ لائسنس یافتہ کمپنیاں افراد اور اداروں کو جائز اور قانونی مقاصد کے لیے وی پی این خدمات فراہم کرنے کی اجازت رکھتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب صارفین آسانی سے ان لائسنس یافتہ فراہم کنندگان سے براہِ راست وی پی این خدمات حاصل کر سکتے ہیں، اور انہیں اپنے آئی پی ایڈریسز یا موبائل نمبرز کے لیے پی ٹی اے سے علیحدہ رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں۔ یہ اقدام ریگولیٹری سہولت، صارفین کی آسانی، اور پاکستان کے ڈیجیٹل نظام میں سائبر سیکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

گزشتہ سال، پی ٹی اے نے فری لانسرز کو اپنے موبائل نمبرز کے ذریعے وی پی این رجسٹر کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وزارتِ قانون کے مطابق حکومت کے پاس الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت ایسی پابندی عائد کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا۔

Comments

Comments are closed.