BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کاروبار اور معیشت

سری لنکا کا نئے اور غیر دریافت شدہ شعبوں کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور

  • پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں سری لنکا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، قونصل جنرل پی کے سنجیوا پٹویلا
شائع November 12, 2025 اپ ڈیٹ November 12, 2025 03:00pm

سری لنکا کے قونصل جنرل پی کے سنجیوا پٹویلا نے موجودہ تجارتی دائرہ کار سے آگے بڑھنے اور باہمی تعاون کے لیے نئے اور غیر دریافت شدہ شعبوں کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا اور پاکستان کے نجی شعبے بالخصوص زرعی صنعتوں، سمندری خوراک، مصالحہ جات، مویشیوں کی خوراک، تعمیرات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ترقی کر سکتے ہیں، اگرچہ تجارتی توازن اس وقت پاکستان کے حق میں ہے لیکن سری لنکا کے تاجروں کےلیے آزاد تجارتی معاہدے کےتحت دستیاب مواقع سےبھرپور فائدہ اٹھانے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

ان خیالات کااظہارانہوں نےکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کےموقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کے سی سی آئی کے صدر محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا،نائب صدر محمد عارف لاکھانی، سابق صدر شمیم احمد فرپو، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز و ایمبیسیز، لائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ اور ایگزیکٹیو اراکین بھی موجود تھے۔

سری لنکن قونصل جنرل نے کہاکہ ہمارا تجارتی پورٹ فولیو متنوع ہے جس میں سری لنکا سے چائے، ناریل کی مصنوعات، ایم ڈی ایف بورڈز، ربڑ کی مصنوعات اور جراحی کے سامان شامل ہیں جب کہ پاکستان سری لنکا کو بنے ہوئے کپڑے، سیمنٹ، ادویات، چاول، اناج اور خشک مچھلی برآمد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے سری لنکا اور پاکستان کے تعلقات باہمی احترام، گہری سمجھ بوجھ اور شاندار تعاون پر مبنی رہے ہیں، اگرچہ ہمارے رسمی سفارتی تعلقات 77 سال قبل قائم ہوئے لیکن ہماری تاریخی وابستگی اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے جو مشترکہ ثقافت، مذہب اور روایات پر مبنی ہیں۔آج ہمارے دو طرفہ تعلقات سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سلامتی کے شعبوں میں تعمیری، مضبوط اور دیرپا ہیں۔پاکستان اور سری لنکا نے تاریخ کے ہر اہم موڑ پر ایک دوسرے کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں سری لنکا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے سیاحت کے حوالے سے پاکستانی عوام کو دعوت دی کہ وہ سری لنکا کو اپنی پسندیدہ سیاحتی مقام کے طور پر منتخب کریں۔

انہوں نے سری لنکن سیاحوں کو بھی پاکستان کے قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے سے لطف اندوز ہونے کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے سری لنکا کی اقتصادی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید پرکشش ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ آزادانہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا نظام،سازگار حکومتی پالیسیاں، اسٹریٹجک محل وقوع اور تعلیم یافتہ و موافق افرادی قوت ہے۔ سری لنکا اب جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری کے لیے ایک انتہائی امید افزا ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں اس کی معیشت کی مضبوطی اور ترقی کی توقع ہے۔

چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کے لیے متعدد مصنوعات ہیں، ہمیں اِن مواقعوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں سری لنکا اپنی درآمدات کو دیگر ممالک کے بجائے پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دے سکتا ہے۔

انہوں نے چائے کی تجارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب سیلون چائے پاکستان میں بہت مقبول تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کینیا کی چائے نے پاکستان کی مارکیٹ میں قبضہ جمع کر لیا۔

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہم سری لنکا کی طرف سے پاکستان کی چائے کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بحال کرنے یا سیلون چائے کی خصوصیات کو اجاگر کرنے کی کوئی مربوط کوشش نہیں دیکھ پائے جو اسے دیگر ممالک کی چائے سے ممتاز بناتی ہےانہوں نے ناریل اور ناریل پاؤڈر کی برآمدات میں بھی اسی طرح کے ضائع کیے گئے مواقع کی نشاندہی کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.