صنعتی اور زرعی صارفین کیلئے پیکیج کی منظوری، پاور ڈویژن نے نیپرا کو درخواست بھیج دی
- پیکج میں قیمت 22.98 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ (کے ڈبلیو ایچ) مقرر کی گئی ہے۔
پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے تین سالہ اضافی کھپت پیکیج کی منظوری مانگی گئی ہے، جس کی قیمت 22.98 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ (کے ڈبلیو ایچ) مقرر کی گئی ہے۔
نیپرا 11 نومبر 2025 کو وفاقی حکومت کی اس تجویز پر عوامی سماعت کرے گا۔ پاور ڈویژن کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران مختلف صارفین کیٹیگریز میں بجلی کی طلب میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو معاشی سست روی، کھپت کے انداز میں تبدیلی اور متبادل ذرائع مثلاً نیٹ میٹرنگ (6,035 میگاواٹ) کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ کمی بالخصوص صنعتی اور زرعی شعبوں میں نمایاں رہی، جہاں بجلی کے استعمال میں بالترتیب 14 فیصد اور 47 فیصد کمی آئی۔ طلب میں کمی سے نظام کے وسائل کم استعمال ہونے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں مقررہ لاگت کی وصولی کم ہونے سے ٹیرف مزید بڑھ جاتا ہے۔ ماضی میں حکومت نے بارہا ایسے اقدامات کیے جن سے کھپت میں اضافہ اور نظام کے بہتر استعمال کو فروغ ملا۔
مثلاً صنعتی سپورٹ پیکیج (نومبر 2020 تا اکتوبر 2023) کے نتیجے میں صنعتی فروخت میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بجلی سہولت پیکیج (دسمبر 2024 تا فروری 2025) کے دوران صنعتی کھپت میں تین ماہ کے دوران بالترتیب 6.9، 2.7 اور 10.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناسب مراعاتی اقدامات سے پیداوار میں تسلسل اور روزگار میں اضافہ ممکن ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق صنعتی اور زرعی صارفین کا کردار نظام کے استحکام میں اہم ہے کیونکہ ان کی طلب کو دن کے اوقات میں (جب شمسی توانائی زیادہ دستیاب ہوتی ہے) مؤثر انداز میں ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف اضافی ڈھانچے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ پیداوار، آمدنی اور روزگار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
وفاقی حکومت نے 5 نومبر 2025 کو اس پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے-الیکٹرک پر ہو گا۔ اس اسکیم کے تحت 22.98 روپے فی یونٹ کا نرخ صنعتی اور نجی زرعی صارفین پر ان کی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اضافی استعمال پر لاگو ہو گا۔ اس پیکیج کی مدت تین سال ہوگی اور اس دوران مثبت فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) تو لاگو ہوں گے مگر منفی ایف سی اے، کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) اور قرضوں کی سروس سرچارجز کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔
اگر صنعتی و زرعی کھپت میں مجموعی طور پر 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تو قیمتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔ ہر چھ ماہ بعد لاگت و آمدنی کے توازن کا جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق ٹیرف میں ردوبدل کیا جائے گا، جبکہ اگر دو مسلسل جائزوں میں ٹیرف بڑھانے کی ضرورت پیش آئی تو اسکیم ختم کر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن نے کہا کہ یہ تجویز وفاقی حکومت کے احکامات کے تحت نیپرا ایکٹ کی دفعات 7 اور 31 کے مطابق جمع کرائی گئی ہے تاکہ کابینہ سے منظور شدہ مراعاتی پیکیج کو باضابطہ طور پر ٹیرف فریم ورک میں شامل کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.