مارکیٹ کی خامیاں اور مہنگائی
- ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا آمدنی کا طبقہ وہ ہے جس کی ماہانہ آمدنی 22,889 سے 29,517 روپے کے درمیان ہے
23 اکتوبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں سالانہ بنیادوں پر 5.05 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ اشیائے خورونوش خصوصاً پیاز، چینی، گندم، آٹا اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ تھا چونکہ ہفتہ وار بنیاد پر ایس پی آئی میں صرف 0.22 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب کے اثرات جلد خراب ہونے والی اشیاء پر بتدریج کم ہورہے ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا آمدنی کا طبقہ وہ ہے جس کی ماہانہ آمدنی 22,889 سے 29,517 روپے کے درمیان ہے، جس میں سالانہ بنیاد پر 6.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ آمدنی والا طبقہ 5.49 فیصد اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جب کہ 17,732 روپے ماہانہ تک آمدنی والے افراد کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔
تاہم مہنگائی کے حساب میں گھریلو مالیاتی حرکیات کو شامل نہیں کیا جاتا، مثال کے طور پر دو اسکول جانے والے بچوں والا گھرانہ تعلیم کے لیے دوسرے گھرانے کی نسبت زیادہ فنڈز مختص کرے گا، یا بزرگ افراد والا گھرانہ طبی اخراجات پر زیادہ خرچ کرے گا۔
ماہرینِ معاشیات اکثر ادارہ شماریات کے تیار کردہ مہنگائی کے اعدادوشمار پر اعتراض کرتے ہیں اور ان میں فرق کی وجہ تقریباً ہر حکومت ماضی اور حال کی سیاسی ترجیحات کو قرار دیتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی 10 اکتوبر 2024 کو جاری کردہ اپنی دستاویزات میں اسی موقف کی تائید کی تھی، جس میں بتایا گیا کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے سے متعلق شعبوں کے اعداد و شمار میں بڑی خامیاں موجود ہیں اور یہ کہ حکومتی مالیاتی اعداد و شمار (جی ایف ایس) کی تفصیلات اور درستگی کے حوالے سے بھی مسائل ہیں، اسی مشاہدے کے نتیجے میں ایک تکنیکی معاونت (ٹی اے) پروگرام شروع کیا گیا جس کا مقصد جی ایف ایس کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک نیا پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) تیار کرنا ہے۔
آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان طے پانے والی شرائط جو میمونڈم آف اکانومی اینڈ فنانشل پالیسیز میں شامل ہیں، کے مطابق یہ بات نوٹ کی گئی کہ تکنیکی معاونت (ٹی اے) کے تحت حکام کی مدد کی جائے گی تاکہ وہ موجودہ ڈیٹا ذرائع اور مرتب کرنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مالیاتی رپورٹنگ کو بہتر بنانے کیلئے رہنمائی حاصل کریں۔ یہ تکنیکی معاونت یکم جولائی 2025 کو شروع ہوئی ہے اور توقع ہے کہ جون 2026 کے اختتام تک مکمل ہو جائے گی، تاہم حقیقی نتائج کا انحصار ان سفارشات پر عمل درآمد پر ہوگا جو اس پروگرام کے تحت فراہم کی جائیں گی۔
پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کا ڈیزائن افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی پر مبنی ہے، جس میں خاص طور پر شرحِ سود برقرار رکھ کر مارکیٹ سے زائد رقوم کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ وہ پالیسی ہے جو عام طور پر ترقی یافتہ معیشتوں میں استعمال ہوتی ہے جہاں کوئی متوازی غیر رسمی معیشت موجود نہیں ہوتی۔ پاکستان میں حکومت چونکہ اپنے جاری اخراجات کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے تجارتی بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کرتی ہے، اس لیے بجٹ خسارہ غیر پائیدار سطح تک پہنچ چکا ہے جو خود ایک افراطِ زر پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبہ مسلسل قرضوں سے محروم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری میں کمی، شرحِ نمو میں جمود اور نتیجتاً بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی عوامل غربت کی شرح کو موجودہ 42 فیصد تک لے آئے ہیں، جیسا کہ ورلڈ بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں مارکیٹ کی ناہمواریاں موجود ہیں جو مہنگائی پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ ان میں شامل ہے: (i) نجی شعبے کا حکومتوں پر اثر و رسوخ جو مختلف پروڈیوسر ایسوسی ایشنز یا تنظیموں کے قیام کے ذریعے عمل میں آتا ہے، چاہے خریداروں اور فروخت کنندگان کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ وہ قیمتوں پر براہ راست اثر نہ ڈال سکیں اور یہ تنظیمیں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہوتی ہیں، جیسے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن۔ (ii) عوامی شعبے کے تجارتی ادارے ٹیکس سے پہلے فروخت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، جس کے لیے فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا موازنہ اشیاء اور خدمات کی پیداواری لاگت سے کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کی پالیسی مکمل لاگت کی وصولی پر مبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیرف خطے کے اوسط نرخوں سے زیادہ ہیں۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ادارہ شماریات کو نہ صرف مختلف اشیاء کو دیے گئے وزن (ویٹیج) پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے بلکہ مارکیٹ میں موجود ناہمواریوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، ایسے عناصر جنہیں بہتر بنانے میں امید ہے کہ آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت مددگار ثابت ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.