BR100 Increased By (0.27%)
BR30 Increased By (0.07%)
KSE100 Increased By (0.2%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 57.09 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.45 Increased By ▲ 0.10 (0.33%)
CNERGY 13.14 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 193.17 Increased By ▲ 0.72 (0.37%)
FABL 94.15 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 52.90 Increased By ▲ 0.11 (0.21%)
FFL 14.83 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
GGL 19.15 Decreased By ▼ -0.41 (-2.1%)
HBL 307.50 Increased By ▲ 1.40 (0.46%)
HUBC 202.00 Increased By ▲ 0.58 (0.29%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.14 Increased By ▲ 0.05 (0.82%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.61 Increased By ▲ 0.45 (0.48%)
OGDC 315.97 Decreased By ▼ -0.76 (-0.24%)
PAEL 35.70 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
PIBTL 14.95 Increased By ▲ 0.27 (1.84%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.35 Increased By ▲ 0.33 (0.35%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.90 Increased By ▲ 0.09 (0.38%)
TELE 7.85 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
TPLP 12.97 No Change ▼ 0.00 (0%)
TRG 56.90 Increased By ▲ 0.34 (0.6%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اسٹیل سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک علیحدہ وزارتِ اسٹیل کے قیام کی پرزور سفارش کی ہے، اور اس ضمن میں چین اور بھارت کی کامیاب مثالوں کا حوالہ دیا ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ پاکستان کے اسٹیل سیکٹر کا مسابقتی تجزیاتی مطالعہ میں صنعت کو درپیش چیلنجز اور پالیسی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے، جس میں قومی اسٹیل پالیسی کے فقدان کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابلِ استعمال اسکریپ کو عام اسکریپ کے طور پر ظاہر کر کے اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے رجحان پر قابو پانے کے لیے نگرانی اور نفاذ کے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو خودکار ٹیکس فائلنگ، ڈیٹا انضمام، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ شفافیت اور ٹیکس وصولی میں بہتری لائی جا سکے۔ وزارت تجارت کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل انوائسنگ اور اسٹیل پیداوار کی نگرانی لازم قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

سی سی پی نے کہا کہ غیر معیاری اسٹیل تیار کرنے اور ٹیکس چوری کرنے والے یونٹس کی نشاندہی، ان پر جرمانے اور کارروائی ناگزیر ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف منصفانہ مسابقت کو فروغ ملے گا بلکہ ٹیکس محصولات میں اضافہ ہو کر معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسٹیل سیکٹر ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور بڑی صنعتوں میں اس کا حصہ 8.2 فیصد ہے۔ مالی سال 2024 میں ملک میں 8.4 ملین میٹرک ٹن اسٹیل تیار کیا گیا، جس میں 4.9 ملین میٹرک ٹن لمبا اسٹیل (بلٹس اور انگوٹ) اور 3.5 ملین میٹرک ٹن فلیٹ اسٹیل (کوائل اور پلیٹیں) شامل ہے۔ فی کس اسٹیل استعمال صرف 47 کلوگرام رہا، جو صنعتی سرگرمیوں کی کم سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان اسٹیل مل 2015 سے غیر فعال ہے جس کے 400 ارب روپے کے واجبات ہیں، جب کہ چین، بھارت اور روس جیسے ممالک نے حکومتی سرپرستی، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار سرمایہ کاری سے ترقی حاصل کی۔

سی سی پی نے سفارش کی ہے کہ حکومت ایک قومی اسٹیل پالیسی تشکیل دے، ٹیکس نظام میں استحکام لائے، معیارات پر عملدرآمد یقینی بنائے اور غیر دستاویزی یونٹس کو باقاعدہ بنائے۔ اسی طرح ڈائریکٹ ریڈیوسڈ آئرن (ڈی آر آئی) ٹیکنالوجی کے فروغ، معدنی وسائل کی ترقی، اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسٹیل سیکٹر میں مسابقت اور پائیدار ترقی کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.