BR100 Increased By (0.68%)
BR30 Increased By (0.95%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.74 Increased By ▲ 0.30 (0.51%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.55 Increased By ▲ 0.56 (1.65%)
CNERGY 8.14 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.14 (0.67%)
DGKC 195.51 Increased By ▲ 2.54 (1.32%)
FABL 89.58 Decreased By ▼ -0.21 (-0.23%)
FCCL 53.40 Increased By ▲ 0.57 (1.08%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.75 Increased By ▲ 1.25 (0.44%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.85 Decreased By ▼ -0.04 (-0.14%)
MLCF 87.35 Increased By ▲ 0.84 (0.97%)
OGDC 323.10 Increased By ▲ 3.14 (0.98%)
PAEL 39.86 Increased By ▲ 0.44 (1.12%)
PIBTL 17.03 Increased By ▲ 0.36 (2.16%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 229.99 Increased By ▲ 1.81 (0.79%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.37 Increased By ▲ 0.19 (0.19%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.62 Increased By ▲ 0.34 (4.11%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.87 Increased By ▲ 0.16 (0.23%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

اصلاحاتی دعوئوں کے باوجود ڈسکوز کی کارکردگی مایوس کن ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

  • ڈسکوز کی کمزور ریگولیٹری فریم ورک، ناقص گورننس، شفافیت کی کمی اور غیر تسلی بخش کارکردگی بدستور ان کی کمرشل قرضوں تک رسائی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، رپورٹ
شائع November 3, 2025 اپ ڈیٹ November 3, 2025 09:05am

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے انکشاف کیا ہے کہ پاور ڈویژن کے اصلاحاتی دعوئوں کے برعکس، ملک کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کمزور ریگولیٹری فریم ورک، ناقص گورننس، شفافیت کی کمی اور غیر تسلی بخش کارکردگی بدستور ان کی کمرشل قرضوں تک رسائی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث وہ سرمایہ کاری کے لیے محدود سرکاری اور غیرملکی امدادی فنڈز پر انحصار کر رہی ہیں۔ وزارتِ اقتصادی امور کے ذرائع کے مطابق، یہ مشاہدات اے ڈی بی کے حالیہ مشن نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران پیش کیے، جس میں ڈسکوز کے مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کی جگہ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) قائم کی ہے، جسے اندرونی حلقے ریٹائرڈ افسران کے لیے پارکنگ پلیس قرار دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کے سربراہ کو، جو ماضی میں سی پی پی اے-جی کے سی ای او کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیے جا چکے ہیں، تقریباً 30 لاکھ روپے ماہانہ پیکج دیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر افسران کو بھی بھاری مراعات کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے واضح کیا کہ ڈسکوز کو مسلسل آپریشنل اور مالی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں لائن لاسز، وصولیوں میں کمی اور ناقص کارکردگی شامل ہیں۔ ان وجوہات کے باعث ڈسکوز نجی مالیاتی ذرائع سے سرمایہ حاصل نہیں کر پا رہیں، جس کا نتیجہ کم سرمایہ کاری، غیرمستحکم بجلی فراہمی اور عوامی بداعتمادی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور چھتوں پر نصب سولر سسٹمز جیسے متبادل توانائی ذرائع کے انضمام نے نیٹ ورک مینجمنٹ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجیز مثلاً ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) اور ایڈوانس پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (اے پی ایم ایس) کی فوری ضرورت ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے زور دیا کہ بجلی کے مؤثر انتظام، نظام کے نقصانات میں کمی اور بہتر سروس کے لیے اسمارٹ گرڈ، ڈیجیٹل ڈسپیچ مراکز اور سکیڈا سسٹم کا نفاذ ناگزیر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان جدید نظاموں سے رئیل ٹائم میں ڈیٹا کی نگرانی، پیشگی مرمت، اور بجلی کے تعطل کا بہتر انتظام ممکن ہو سکے گا، تاہم اس کے لیے منظم منصوبہ بندی اور ماہرین کی مشاورت لازمی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے صارفین مالی سال 2023 میں اوسطاً ہر ماہ دو بار بجلی کے تعطل کا شکار ہوئے، جن کا دورانیہ تقریباً پانچ گھنٹے تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق، بڑھتی ہوئی سولر انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ نیٹ ورک نے وولٹیج اتار چڑھاؤ اور گرڈ کے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جسے قابو کرنے کے لیے جدید گرڈ ماڈرنائزیشن اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں خاطرخواہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.