یوکرین کے ڈرون حملے سے روس کے اہم بلیک سی پورٹ توآپسے میں تیل کے ٹرمینل اور ایک ٹینکر کو شدید نقصان پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی۔ جنوبی علاقے کراسنودار کی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ بندرگاہ میں بغیر پائلٹ طیاروں کے ملبے کے ٹکڑے ایک آئل ٹینکر پر گرے، جس سے جہاز کے ڈیک پر موجود ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی۔ عملے کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
توآپسے بندرگاہ روس کے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے اہم برآمدی مرکز ہے، جہاں روسنیفٹ کے زیرِ انتظام آئل ریفائنری بھی واقع ہے۔ یوکرین اس سال متعدد بار اسی تنصیب کو نشانہ بنا چکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق حملے سے بندرگاہ کی عمارتوں اور دیگر ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمینل حملے کے بعد کام کر رہا ہے یا نہیں۔
غیر سرکاری روسی اور یوکرینی ٹیلیگرام چینلز پر ایسی تصاویر شیئر کی گئیں جن میں رات کے وقت ایک ٹینکر اور ٹرمینل کو آگ میں لپٹا ہوا دکھایا گیا۔ تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز ان مناظر کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
یوکرینی حکام نے اس حملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کیف نے روسی ریفائنریوں، ایندھن کے ذخائر اور پائپ لائنوں پر حملے تیز کر دیے ہیں تاکہ ماسکو کی فوجی رسد اور ایندھن کی فراہمی کو متاثر کیا جا سکے۔
علاقائی حکام کے مطابق گرنے والے ملبے سے توآپسے کے قریب ایک رہائشی عمارت کو بھی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بندرگاہ کے ریلوے اسٹیشن کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔


Comments
Comments are closed.