اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے شہر جنین کے قریب کارروائی کے دوران تین فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جنہیں اسرائیل نے ایک دہشت گرد سیل کے ارکان قرار دیا ہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق یہ کارروائی منگل کے روز گاؤں کفر قود میں کی گئی، جو فوج اور پولیس کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی یونٹ یامام کے درمیان مشترکہ آپریشن تھا۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ یامام فورسز نے مناشے سیکٹر کے علاقے کفر قود میں ایک دہشت گرد سیل کو نشانہ بنایا جو ایک منصوبہ بند حملے کی تیاری میں مصروف تھا اور جنین کے مہاجر کیمپ میں سرگرم ایک تنظیم سے وابستہ تھا۔ پولیس کے مطابق فورسز نے دیکھا کہ سیل کے ارکان ایک غار سے باہر نکل رہے ہیں، جس کے بعد نشانہ بازوں نے فائرنگ کر کے تینوں کو مار دیا۔ بعد ازاں فوج نے غار پر فضائی حملہ کیا تاکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کیا جا سکے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ یہوداہ اور سامریہ میں دہشت گرد تنظیموں کے کسی بھی ڈھانچے کو ازسرِ نو قائم کرنے کی کوشش کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ زمینی اور فضائی سطح پر ہر وہ اقدام کیا جائے جو دہشت گرد خطرات اور ان کے عناصر کے خاتمے کے لیے ضروری ہو۔
گزشتہ موسمِ سرما میں اسرائیل نے غزہ میں مختصر جنگ بندی کے بعد مغربی کنارے کے شمالی مہاجر کیمپوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور درجنوں مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں کم از کم 988 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے میں 43 اسرائیلی، جن میں فوجی بھی شامل ہیں، فلسطینی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ مغربی کنارے میں 1967 سے اسرائیل کے قبضے کے بعد 500,000 سے زائد اسرائیلی آبادکار مقیم ہیں۔


Comments
Comments are closed.