BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

سپلائی خدشات کے باوجود خام تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں

تیل کی قیمتوں میں جمعے کے روز کمی دیکھنے میں آئی، لیکن ہفتہ وار اضافہ برقرار رہا۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ...
شائع اپ ڈیٹ

تیل کی قیمتوں میں جمعے کے روز کمی دیکھنے میں آئی، لیکن ہفتہ وار اضافہ برقرار رہا۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کی جانب سے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر یوکرین میں جنگ کے سلسلے میں نئی پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 65.45 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 51 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 61.28 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی تھا۔ دونوں بینچ مارک گزشتہ روز 5 فیصد سے زائد بڑھے تھے اور ہفتہ وار اضافہ تقریباً 7 فیصد کے قریب تھا، جو جون کے وسط کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے پابندیوں کے باوجود جمعرات کو ہمت نہیں ہاری، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک اوئل پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ دونوں کمپنیاں عالمی تیل کی پیداوار کا پانچ فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے بعد چینی سرکاری تیل کمپنیوں نے روسی تیل کی خریداری کو عارضی طور پر معطل کر دیا، جبکہ بھارت کے ریفائنرز، جو روسی سمندری تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، اپنے درآمدی حجم میں کمی کریں گے۔

کمیوڈیٹی اینالسٹ ساتورو یوشیدا کا کہنا تھا کہ روس پر امریکی پابندیوں کے باعث سپلائی کے کم ہونے کے خدشات کے پیش نظر خریداری کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وی ٹی آئی تقریباً 65 ڈالر کے اوپر یا نیچے پانچ ڈالر کے فرق میں تجارت کرے گا۔

کویت کے وزیر تیل نے کہا کہ اوپیک کسی بھی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں کمی واپس کر سکتی ہے۔ یورپی یونین نے بھی روس پر 19 ویں پابندیوں کا پیکیج منظور کیا، جس میں روسی مائع قدرتی گیس کی درآمد پر پابندی شامل ہے۔

سرمایہ کار اگلے ہفتے ہونے والی امریکی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی آنے کی توقع ہے۔

Comments

Comments are closed.