ترکی کے حماس سے تعلقات جو کبھی واشنگٹن میں ایک بوجھ سمجھے جاتے تھے اب ایک جیو پولیٹیکل اثاثہ بن گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن معاہدے پر حماس کو راضی کر کے ترکی نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے پر اپنی حیثیت دوبارہ منوا لی ہے، جس سے اسرائیل اور اس کے عرب حریف ناخوش ہیں۔
ابتدا میں حماس نے امریکی الٹی میٹم اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرو یا تباہی کے لیے تیار رہو کو مسترد کر دیا تھا، مگر ترکی کے دباؤ پر گروپ نے آخرکار اسے قبول کر لیا۔ دو علاقائی ذرائع اور دو حماس اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ انقرہ کا پیغام واضح تھا کہ اب ماننے کا وقت آ گیا ہے۔
ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ یہ جنٹلمین دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں میں سے ایک ہے۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
اردوان کے دستخط سے غزہ معاہدے کو نئی توانائی ملی اور ترکیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں مرکزی کردار کے اپنے دعوے کو مزید مضبوط کر لیا۔
تاہم اب ترکیہ اس سیاسی کامیابی کو امریکا کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے ، خاص طور پر ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی بحالی، امریکی پابندیوں میں نرمی اور شام میں سلامتی کے اہداف کے حوالے سےتعلقات کے فوائد بروئے کار لارہاہے۔
تجزیہ کار سینان اولگن کے مطابق ترکیہ کی جانب سے حماس کو معاہدے پر آمادہ کرنے سے اس کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور اب وہ واشنگٹن میں نئی ہم آہنگی سے اپنے دیرینہ تنازعات حل کرنے کی کوشش کرے گا۔


Comments
Comments are closed.