وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور پلاننگ کمیشن کے نائب چیئرمین احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی ترقی کے اہم شعبوں میں 18 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
احسن اقبال نے اجلاس میں کہا کہ ترقی صرف منصوبوں کا نہیں بلکہ عوام، کارکردگی اور مقصد کا نام ہے۔ آج جو بھی منصوبے منظور کیے جا رہے ہیں، انہیں پاکستان کے بہتر مستقبل میں تبدیل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقیاتی حکمتِ عملی ویژن 2025 اور اڑان پاکستان فریم ورک کے فائیو ایز (ایکسپورٹس، ای۔پاکستان، انرجی و انفراسٹرکچر، ماحولیات، مساوات و بااختیاری) پر مبنی ہے، جو 2047 تک ملک کو ایک مسابقتی اور علم پر مبنی معیشت بنانے کا عزم رکھتی ہے۔
اجلاس میں 12 منصوبے 35.4 ارب روپے کے منظور کیے گئے جبکہ 6 منصوبے 280.2 ارب روپے کے ایکنک کو سفارش کے لیے بھیجے گئے۔ اجلاس میں سیکریٹری پلاننگ، چیف اکنامسٹ، وائس چانسلر پی آئی ڈی ای، اور وفاقی و صوبائی نمائندگان شریک تھے۔
زراعت کے شعبے میں پنجاب ریزیلینٹ اینڈ انکلیوسیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن منصوبہ 68.67 ارب روپے کا ایکنک کو بھیجا گیا، جب کہ نیشنل پروگرام برائے اینیمل ڈیزیز سرویلنس اینڈ کنٹرول (7.35 ارب روپے) منظور کیا گیا۔ اسی طرح پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ اینڈ لو کاربن ایگریکلچر مکینائزیشن پروجیکٹ 36.12 ارب روپے کا بھی ایکنک کو ارسال کیا گیا۔
صحت کے شعبے میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام (2.17 ارب روپے)، ساؤتھ پنجاب میں چائلڈ ہیلتھ فیسلٹیز (6.40 ارب روپے) اور ڈی-ٹاک اینڈ انسولین فار لائف پروگرام (1.39 ارب روپے) کی منظوری دی گئی۔
ماحولیاتی شعبے میں بابو صابو، لاہور میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (52.19 ارب روپے) کی منظوری دی گئی، جو اے ایف ڈی کے تعاون سے مکمل ہوگا اور دریا راوی کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا۔
توانائی کے شعبے میں آزاد کشمیر میں تین چھوٹے ہائیڈرو پاور منصوبے — پھلوائی (3 میگاواٹ)، خورشید آباد (2.71 میگاواٹ) اور نوشہرہ (1.95 میگاواٹ) — منظور کیے گئے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بی آر ٹی کوئٹہ اسٹڈی (1.24 ارب روپے) منظور ہوئی جبکہ ایم ایل ون اور حویلیاں ڈرائی پورٹ (16.26 ارب روپے) کو ایکنک بھیجا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ایم ایل ون محض ریل اپ گریڈ نہیں بلکہ پاکستان کا 21ویں صدی میں قدم رکھنے کا منصوبہ ہے۔
اجلاس میں کچھی کینال کی بحالی (5.65 ارب روپے) اور خیبر پختونخوا ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پروجیکٹ (50.95 ارب روپے) کی بھی منظوری دی گئی، جن سے پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی ترقی کو فروغ ملے گا۔


Comments
Comments are closed.