نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا)، جو پاور ڈویژن کا ایک ذیلی ادارہ ہے، نے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز (ڈی ڈی ایز) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عمارتوں کے ضمنی قوانین (by-laws) میں انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ 2023 کو شامل کریں۔
اس سلسلے میں نیکا کے منیجنگ ڈائریکٹر سردار محزم نے چیئرمین گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)، خیبرپختونخوا اور چیئرمین مردان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو خطوط ارسال کیے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، چیئرمین گوجرانوالہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، چیئرمین فیصل آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، چیئرمین راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، ڈائریکٹر جنرل ملتان ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، چیئرمین لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، چیئرمین کوئٹہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، چیئرمین گلگت بلتستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، چیئرمین اسکردو ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، چیئرمین میرپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور چیئرمین مظفرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔
خطوط کے مطابق، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی کو نیکا ایکٹ 2016 کے تحت ملکی معیشت کے تمام شعبوں میں توانائی کے مؤثر استعمال اور بچت کے ضوابط بنانے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا اختیار حاصل ہے۔
اتھارٹی نے انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ (ECBC-2023) تیار کیا ہے جسے اگست 2023ء میں وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ یہ کوڈ عمارتوں کے ڈیزائن اور تعمیر میں توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے کم از کم تقاضے متعین کرتا ہے تاکہ تعمیراتی شعبے میں توانائی کی بچت کو فروغ دیا جا سکے۔
ای سی بی سی 2023 میں عمارتوں کے خارجی ڈھانچے کے ڈیزائن، موصلیت (انسولیشن)، غیر فعال طرزِ تعمیر (پیسِو آرکیٹیکچر)، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام، برقی و مکینیکل نظاموں کے مؤثر استعمال اور جامع توانائی نظم و نسق سے متعلق رہنما اصول شامل ہیں۔
حال ہی میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ای سی بی سی 2023 کو اپنے بلڈنگ بائی لاز میں شامل کرلیا ہے۔ یہ ایک مثبت اور دور اندیش اقدام ہے جو پائیدار شہری ترقی کے لیے سی ڈی اے کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے اور ملک کی دیگر ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے لیے قابلِ تقلید مثال پیش کرتا ہے۔
پس منظر بیان کرنے کے بعد منیجنگ ڈائریکٹر نیکا نے ضلعی ترقیاتی اتھارٹیز سے درخواست کی کہ وہ ای سی بی سی 2023 (ECBC-2023) کو اپنے بلڈنگ بائی لاز میں شامل کرنے کا عمل شروع کریں۔ یہ اقدام نہ صرف متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک کو قومی توانائی کارکردگی کی ترجیحات کے مطابق ہم آہنگ کرے گا بلکہ معاشی، ماحولیاتی اور سماجی سطح پر طویل المدتی فوائد کو بھی یقینی بنائے گا۔
اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال سے اپیل کی تھی کہ وہ توانائی کے ضیاع میں کمی کے لیے بلڈنگ کوڈز کے نفاذ میں تعاون فراہم کریں۔
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ارسال کیے گئے خطوط میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اپنی پہلی جنوری 2025ء کی مراسلت کا حوالہ دیا، جو ”انرجی بلڈنگ کوڈ 2023ء کے نفاذ“ سے متعلق تھی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.