BR100 Increased By (2.8%)
BR30 Increased By (3.57%)
KSE100 Increased By (2.38%)
KSE30 Increased By (2.44%)
BAFL 57.80 Decreased By ▼ -0.32 (-0.55%)
BIPL 23.77 Increased By ▲ 0.39 (1.67%)
BOP 30.90 Increased By ▲ 2.81 (10%)
CNERGY 11.97 Increased By ▲ 0.23 (1.96%)
DFML 15.27 Increased By ▲ 0.21 (1.39%)
DGKC 195.01 Increased By ▲ 9.98 (5.39%)
FABL 92.09 Decreased By ▼ -0.70 (-0.75%)
FCCL 56.78 Increased By ▲ 2.32 (4.26%)
FFL 13.34 Increased By ▲ 0.27 (2.07%)
GGL 18.38 Increased By ▲ 0.68 (3.84%)
HBL 295.44 Increased By ▲ 9.28 (3.24%)
HUBC 204.17 Increased By ▲ 6.93 (3.51%)
HUMNL 8.65 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
KEL 6.00 Increased By ▲ 0.37 (6.57%)
LOTCHEM 24.37 Increased By ▲ 0.54 (2.27%)
MLCF 97.49 Increased By ▲ 4.51 (4.85%)
OGDC 310.47 Increased By ▲ 6.84 (2.25%)
PAEL 33.07 Increased By ▲ 1.16 (3.64%)
PIBTL 13.15 Increased By ▲ 0.41 (3.22%)
PIOC 252.91 Increased By ▲ 12.50 (5.2%)
PPL 217.17 Increased By ▲ 4.26 (2%)
PRL 85.66 Increased By ▲ 1.32 (1.57%)
SNGP 94.12 Increased By ▲ 4.09 (4.54%)
SSGC 23.32 Increased By ▲ 0.49 (2.15%)
TELE 6.73 Increased By ▲ 0.23 (3.54%)
TPLP 12.67 Increased By ▲ 0.68 (5.67%)
TRG 53.17 Increased By ▲ 1.70 (3.3%)
UNITY 7.77 Increased By ▲ 0.19 (2.51%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)

پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے حالیہ اجلاس میں ہائیڈرو اور سولر سمیت درجن بھر قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے مستقبل پر غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی ہے، جو مختلف وجوہات کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔ ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس غیر یقینی صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ “انڈیکیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025-35” کی عدم منظوری ہے، جس کا حتمی فیصلہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو کرنا ہے۔

یہ انکشاف پی پی آئی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہان مرزا نے بورڈ اجلاس کے دوران پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کیا۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ نے 700.7 میگاواٹ آزاد پٹن ہائیڈرو پاور منصوبہ (آزاد کشمیر/پنجاب) کے معاملے میں فیصلہ کیا کہ سی پیک توانائی تعاون منصوبوں کی فہرست میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) اور وفاقی حکومت کے حتمی فیصلے تک منصوبے کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے۔ کمپنی کی جانب سے مالیاتی تکمیل (فنانشل کلوز) کی تاریخ میں توسیع کی درخواست فی الحال معطل رہے گی تاہم کمپنی اپنی پرفارمنس گارنٹی کو فعال رکھے گی۔

اسی طرح، 1124 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبہ کی فنانشل کلوزنگ کی توسیع جو پہلے ستمبر 2027 تک منظور کی گئی تھی، واپس لے لی گئی ہے، تاہم منصوبے کی موجودہ حیثیت برقرار رہے گی۔ دونوں منصوبوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے وزیرِاعظم اور دیگر حکام کو اس فیصلے پر تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔

8 میگاواٹ کتھائی ہائیڈرو پاور منصوبہ کے حوالے سے بورڈ نے کمپنی کا لیٹر آف سپورٹ (ایل او ایس) فوری طور پر منسوخ کرنے اور پرفارمنس گارنٹی کی واپسی کی منظوری دے دی ہے، بشرطیکہ کمپنی ڈیڈ آف ریلیز پر دستخط کرے اور واجب الادا فیس ادا کرے۔ پی پی آئی بی کے مطابق منصوبے کی منسوخی کا عمل جاری ہے۔

ایکسس سولر (11.52 میگاواٹ) اور ایکسس الیکٹرک (10 میگاواٹ) کے سولر منصوبوں کے ایل او ایس کی میعاد ختم ہونے کی باضابطہ منظوری بھی بورڈ نے دے دی ہے۔ اسی طرح سیف سولر کے 10 میگاواٹ منصوبے کے لیے کمپنی کی پرفارمنس گارنٹی مکمل طور پر واپس کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب ٹرانس اٹلانٹک انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ٹی اے ای پی ایل) کو جاری کردہ لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) کی توسیع سے متعلق فیصلہ آئندہ آئی جی سی ای پی کی منظوری تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ فیصلہ ہونے تک کمپنی کو اپنی بینک گارنٹی فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

مزید برآں، بورڈ نے فیصلہ کیا کہ 640 میگاواٹ ماہل، 450 میگاواٹ آٹھمقام اور 82.25 میگاواٹ ٹرٹوناس-اوزغور ہائیڈرو منصوبوں پر کوئی نئی توسیع یا اجازت نامے جاری نہیں کیے جائیں گے، اور ان منصوبوں کی حتمی سمت آئی جی سی ای پی کی منظوری کے بعد طے کی جائے گی۔

بورڈ نے ریالی ہائیڈرو پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ حکومتِ پاکستان کے ایمپلیمینٹیشن ایگریمنٹ پر دستخط کی منظوری بھی دے دی، تاہم منصوبے پر عملی پیش رفت آئی جی سی ای پی 2025-35 میں نیپرا کی منظوری سے مشروط ہو گی۔

ذرائع کے مطابق، پی پی آئی بی نے تمام متعلقہ کمپنیوں کو بورڈ کے فیصلوں سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی آئندہ حکمتِ عملی اسی کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.