BR100 Increased By (0.4%)
BR30 Increased By (0.6%)
KSE100 Increased By (0.29%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.25 (0.43%)
BIPL 25.35 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
BOP 34.27 Increased By ▲ 0.28 (0.82%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.01 Increased By ▲ 2.04 (1.06%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 19.65 Increased By ▲ 0.68 (3.58%)
HBL 286.21 Increased By ▲ 0.71 (0.25%)
HUBC 214.89 Increased By ▲ 0.51 (0.24%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 87.00 Increased By ▲ 0.49 (0.57%)
OGDC 322.10 Increased By ▲ 2.14 (0.67%)
PAEL 39.79 Increased By ▲ 0.37 (0.94%)
PIBTL 16.92 Increased By ▲ 0.25 (1.5%)
PIOC 268.50 Increased By ▲ 2.44 (0.92%)
PPL 228.78 Increased By ▲ 0.60 (0.26%)
PRL 34.85 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.40 (1.5%)
TELE 8.62 Increased By ▲ 0.34 (4.11%)
TPLP 8.63 Increased By ▲ 0.41 (4.99%)
TRG 69.51 Decreased By ▼ -0.20 (-0.29%)
UNITY 11.68 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

ورلڈ بینک نے اپنی تازہ رپورٹ ”پورٹی اینڈ ایکوٹی بریف“ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں اصل معاشی عدم مساوات سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، کیونکہ عام طور پر سروے میں اعلیٰ آمدنی والے طبقے کی نمائندگی کم ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، گنی انڈیکس کی بنیاد پر پاکستان میں گھریلو کھپت کے لحاظ سے عدم مساوات 30.3 پوائنٹس پر ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.4 پوائنٹس کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 میں 2.7 فیصد کی معمولی معاشی شرح نمو، افراطِ زر میں کمی اور معاشی استحکام کے باعث غربت میں کمی آئی ہے۔ نئے ایل ایم آئی سی غربت کے معیار ( 4.20 امریکی ڈالر فی دن 2021 پی پی پی) کے تحت غربت کی شرح 47.1 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد تک آگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بہتری بنیادی طور پر تعمیراتی اور لاجسٹکس شعبے میں تیز رفتار ترقی کے باعث ممکن ہوئی، جس سے مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ ان شعبوں میں کام کرنے والے غریبوں کی تعداد تقریباً 25 فیصد ہے۔ مزید یہ کہ خوراک کی مہنگائی میں نمایاں کمی نے کم آمدنی والے طبقے کی خریداری کی صلاحیت بہتر کی ہے، کیونکہ غریب گھرانے اپنی آمدنی کا تقریباً 45 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

تاہم، حالیہ موسمیاتی تباہ کاریاں اس معاشی بہتری کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ جون 2025 سے شدید مون سون بارشوں اور برف پگھلنے کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں نے 20 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا، 0.5 ملین ہیکٹر زیرِ کاشت زمین تباہ ہوئی اور پنجاب میں زرعی پیداوار میں 10 فیصد کمی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ بڑے فصلوں جیسے چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی کی پیداوار متاثر ہونے سے خوراک کی عدم تحفظ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر مالی سال 2026 میں صورتحال زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔

ورلڈ بینک نے کہا کہ اگر متاثرہ علاقوں میں معاشی بحالی اور سماجی تحفظ کے اقدامات مؤثر نہ ہوئے تو غربت میں حالیہ کمی کے اثرات ختم ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر جی ڈی پی کے 9.3 فیصد تک پہنچ چکی ہیں، جو کمزور طبقے کے لیے ایک اہم سہارا ہیں، لیکن سب سے غریب طبقہ اس سے بہت کم مستفید ہوتا ہے — صرف 3.2 فیصد غریب گھرانے ترسیلات حاصل کرتے ہیں۔

بینک نے خبردار کیا کہ تعمیراتی اور لاجسٹکس جیسے غیر رسمی شعبوں میں ملازمتوں کی ناپائیداری غربت میں کمی کے تسلسل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.