دنیا کے امیر ترین شخص اور مشہور ٹیکنالوجی بزنس مین ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینر بننے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ فوربز میگزین نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ مسک کی مجموعی دولت 500 ارب ڈالر کی تاریخی حد کو عارضی طور پر عبور کر گئی، جس کے بعد وہ ٹریلین ڈالر تک کے سفر کا تقریباً نصف طے کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 54 سالہ مسک کی دولت بدھ کو 500.1 ارب ڈالر تک جا پہنچی، تاہم کچھ دیر بعد یہ کم ہو کر 499.1 ارب ڈالر رہ گئی۔ فوربز کے ریئل ٹائم بلینیئرز ٹریکر کے مطابق وہ بدستور دنیا کے سب سے امیر ترین فرد ہیں۔
فہرست میں ان کے بعد اوریکل کے سی ای او لیری ایلیسن 350.7 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ فیس بک اور انسٹاگرام کی کمپنی میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ 245.8 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
مسک نے اپنی ابتدائی تعلیم یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے حاصل کی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کو درمیان میں چھوڑ دیا۔ انہوں نے پہلا بڑا منافع 1999 میں حاصل کیا جب انہوں نے اپنی آن لائن پبلشنگ کمپنی امریکی کمپیوٹر ساز کمپنی کومپیک کو 300 ملین ڈالر میں فروخت کی۔ اس کے بعد ان کی کمپنی نے پے پال کے ساتھ انضمام کیا۔
پے پال چھوڑنے کے بعد، جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے اس ارب پتی نے 2002 میں اسپیس ایکس کی بنیاد رکھی اور 2004 میں الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے چیئرمین بنے۔ ان کمپنیوں نے مسک کو دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں سب سے آگے کر دیا ہے۔


Comments
Comments are closed.