وزارتِ خزانہ نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی ہے جو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا تھا۔
مشیر وزیرِ خزانہ خُرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے اپنے 500 ملین ڈالر مالیت کے بین الاقوامی بانڈ (یوروبانڈ) کی ادائیگی کامیابی سے کردی ہے، جو 30 ستمبر 2025 کو مقررہ وقت پر واجب الادا تھا اور یہ اقدام تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی کے مطابق ہے۔
یہ بانڈ 2015 میں عالمی سرمایہ کاروں کو 10 سالہ مدت کے لیے جاری کیا گیا تھا جو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا۔
قرض کی بروقت ادائیگی معمول کے مطابق ہے جو ملک کے مالیاتی نظم و ضبط کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
خُرم شہزاد کے مطابق حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ ادائیگی ایسے وقت میں کی گئی جب ذخائر اور لیکویڈٹی میں بہتری آئی ہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی خودمختار ریٹنگ میں بہتری کی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو رہا ہے اور حالیہ تاریخ میں پاکستان کے بانڈز پریمیم پر ٹریڈ ہورہے ہیں۔
مشیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان کا قرض بمقابلہ جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2020 میں 77 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 70 فیصد پر آ گیا ہے جبکہ کل سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ 38 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 2025 میں 32 فیصد رہ گیا ہے۔
دوسری جانب، ملک کے قرضوں کی شرحِ نمو مالی سال 2025 میں پچھلے برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کے لیے عالمی قرض لینے کی لاگت میں کمی اور مضبوط معاشی بنیادیں پاکستان کو زیادہ مسابقتی شرائط پر عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کریں گی اور ایک زیادہ پائیدار قرض پروفائل قائم کرنے کے عمل کو آگے بڑھائیں گی۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال کسی حد تک مستحکم ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر ہفتہ وار بنیاد پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر بڑھ کر 19 ستمبر 2025 تک 14.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
دوسری جانب حکومت 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔


Comments
Comments are closed.