BR100 Increased By (1.37%)
BR30 Increased By (1.27%)
KSE100 Increased By (1.15%)
KSE30 Increased By (1.21%)
BAFL 57.92 Increased By ▲ 0.72 (1.26%)
BIPL 27.38 Increased By ▲ 0.49 (1.82%)
BOP 34.62 Increased By ▲ 0.93 (2.76%)
CNERGY 10.83 Increased By ▲ 0.22 (2.07%)
DFML 18.31 Increased By ▲ 0.26 (1.44%)
DGKC 212.53 Increased By ▲ 2.63 (1.25%)
FABL 101.60 Increased By ▲ 2.65 (2.68%)
FCCL 54.73 Increased By ▲ 0.99 (1.84%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 24.27 Increased By ▲ 0.45 (1.89%)
HBL 306.30 Increased By ▲ 3.88 (1.28%)
HUBC 221.56 Increased By ▲ 2.62 (1.2%)
HUMNL 10.66 Increased By ▲ 0.12 (1.14%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.17 (2.34%)
LOTCHEM 29.89 Increased By ▲ 0.24 (0.81%)
MLCF 96.97 Increased By ▲ 0.61 (0.63%)
OGDC 320.75 Increased By ▲ 2.53 (0.8%)
PAEL 42.84 Increased By ▲ 1.07 (2.56%)
PIBTL 17.19 Increased By ▲ 0.38 (2.26%)
PIOC 299.15 Increased By ▲ 2.53 (0.85%)
PPL 223.80 Increased By ▲ 3.63 (1.65%)
PRL 51.85 Increased By ▲ 2.80 (5.71%)
SNGP 108.00 Increased By ▲ 1.87 (1.76%)
SSGC 29.64 Increased By ▲ 0.50 (1.72%)
TELE 9.01 Increased By ▲ 0.19 (2.15%)
TPLP 13.05 Increased By ▲ 0.54 (4.32%)
TRG 60.50 Increased By ▲ 0.28 (0.46%)
UNITY 10.16 Increased By ▲ 0.14 (1.4%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنی ہے نے جمعہ کو اعلان کیا کہ سوغری نارتھ ویل-ون سے کامیابی کے ساتھ پیداوار شروع کردی گئی ہے۔

کمپنی نے یہ اعلان پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے نوٹس میں کیا۔ نوٹس کے مطابق اس ویل کی یومیہ پیداواری صلاحیت 14.0 ملین معیاری مکعب فٹ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس اور 430 بیرل کنڈنسٹیت ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق، اس دریافت سے جلد سے جلد فائدہ اٹھانے کے لیے کنویں کو ڈکنی پلانٹ سے ملانے والی 8 انچ قطر اور 14 کلومیٹر طویل فلو لائن بچھائی گئی ہے تاکہ گیس کی پروسیسنگ کی جا سکے۔

نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ پروسیس شدہ گیس کو ایس این جی پی ایل کے نظام میں داخل کیا جا رہا ہے۔

سوغری نارتھ-1 ویل 21 مئی 2024 کو شروع کیا گیا، جو او جی ڈی سی ایل کی پاکستان کے ہائیڈروکاربن وسائل کی تلاش میں جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ ویل پٹالا فارمیشن میں کل 4,942 میٹر کی گہرائی تک کھدوائی گئی اور اس پر وسیع پیمانے پر تجربات کیے گئے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ہائیڈروکاربن ذخائر کے اضافے سے او جی ڈی سی ایل کے پورٹ فولیو کو مضبوطی ملے گی اور پاکستان کے مقامی توانائی وسائل کو فروغ حاصل ہوگا۔

Comments

Comments are closed.