اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ گزشتہ ہفتے قطر میں حماس حکام پر حملہ جائز تھا کیونکہ خلیجی ریاست کے اس گروہ سے قریبی تعلقات ہیں۔
ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ قطر حماس سے جڑا ہوا ہے، اسے سہارا دیتا ہے، پناہ دیتا ہے اور مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے پاس اثرورسوخ ہے مگر اس نے استعمال نہیں کیا، لہٰذا ہمارا اقدام مکمل طور پر درست تھا۔
یہ حملہ، جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے مگر کوئی اہم حماس رہنما نشانہ نہیں بنا، قطر پر اسرائیل کا پہلا حملہ تھا جو ایک امریکی اتحادی ملک ہے۔
اس واقعے کے ردعمل میں قطر نے عرب لیگ اور او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جس میں لگ بھگ 60 ممالک نے شرکت کر کے اسرائیل کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
قطر کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، مگر وہ طویل عرصے سے حماس کی قیادت کی میزبانی کرتا رہا ہے اور غزہ جنگ میں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کے دو قریبی ساتھیوں پر قطری ادائیگیوں کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، جسے قطر گیٹ اسکینڈل کہا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے اس کیس کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔


Comments
Comments are closed.