BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.11%)
KSE100 Decreased By (-0.12%)
KSE30 Increased By (0.04%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.16 (0.28%)
BIPL 26.88 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
BOP 33.27 Decreased By ▼ -0.41 (-1.22%)
CNERGY 10.20 Increased By ▲ 0.39 (3.98%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 208.05 Increased By ▲ 0.18 (0.09%)
FABL 97.69 Decreased By ▼ -1.21 (-1.22%)
FCCL 53.55 Increased By ▲ 0.03 (0.06%)
FFL 16.32 Decreased By ▼ -0.36 (-2.16%)
GGL 23.75 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 302.99 Decreased By ▼ -1.40 (-0.46%)
HUBC 218.50 Increased By ▲ 0.39 (0.18%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.21 (-1.97%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 28.72 Decreased By ▼ -0.39 (-1.34%)
MLCF 95.25 Decreased By ▼ -0.25 (-0.26%)
OGDC 318.98 Increased By ▲ 1.04 (0.33%)
PAEL 41.29 Decreased By ▼ -0.54 (-1.29%)
PIBTL 16.41 Decreased By ▼ -0.09 (-0.55%)
PIOC 295.11 Increased By ▲ 15.10 (5.39%)
PPL 221.90 Increased By ▲ 2.16 (0.98%)
PRL 47.70 Increased By ▲ 3.11 (6.97%)
SNGP 106.65 Decreased By ▼ -0.84 (-0.78%)
SSGC 28.70 Decreased By ▼ -0.23 (-0.8%)
TELE 8.78 Increased By ▲ 0.02 (0.23%)
TPLP 12.23 Increased By ▲ 0.13 (1.07%)
TRG 59.69 Decreased By ▼ -0.34 (-0.57%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 2018 میں جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے سکڑ کر 2025 میں محض 0.8 فیصد رہ گیا ہے، جس سے پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت پر شدید دباؤ ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ قومی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث اسے محدود کیا گیا ہے، اس لیے ہر روپیہ صرف ترجیحی منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے۔ اجلاس میں پی ایس ڈی پی 2024-25 کی مکمل کارکردگی اور 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے اجرا و اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پی ایس ڈی پی کا استعمال ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گیا تھا، مگر بدقسمتی سے اس سال رجحان الٹ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک خصوصی کمیٹی نے جاری منصوبوں کا چار روزہ تفصیلی جائزہ لیا اور 1267 ارب روپے کی سفارش کی، تاہم فنانس ڈویژن نے صرف 1000 ارب روپے مختص کیے۔

احسن اقبال نے وزارتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے پورٹ فولیوز کا ازسرنو جائزہ لیں اور صرف ضروری و اثر انگیز منصوبے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں میں تاخیر اور بار بار نظرثانی لاگت بڑھنے کا باعث بنتی ہے۔ گزشتہ برس 36 منصوبوں اور رواں برس 26 منصوبوں میں ترمیم سے مجموعی لاگت میں 1.1 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی 2024-25 کا آغاز 10,216 ارب روپے کے تھرو فارورڈ سے ہوا۔ اسپانسرنگ ایجنسیز نے 2,904 ارب روپے کا مطالبہ کیا، تاہم اصل مختص 1,400 ارب روپے کو کم کر کے 1,100 ارب کر دیا گیا، جس میں سے 1,077 ارب روپے (98 فیصد) استعمال ہوئے۔ مزید یہ کہ 221 منصوبوں کی تکمیل اور 123 منصوبوں کو جون 2025 تک بند کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی، جس سے دو کھرب روپے کا تھرو فارورڈ کم ہوا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.