یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کے رات گئے حملوں میں ایک شیر خوار بچہ سمیت 3 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے، جبکہ کئی سرکاری و رہائشی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی، جن میں سرکاری دفاتر بھی شامل ہیں۔ یوکرینی حکام نے اتوار کو تصدیق کی کہ حملے ڈرون اور میزائل حملوں کی صورت میں کیے گئے۔
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو کے مطابق شہر کے مرکز میں واقع سرکاری عمارت پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ڈرون حملوں میں ایک شیر خوار بچہ اور ایک نوجوان خاتون ہلاک ہوئی، جبکہ ایک حاملہ خاتون سمیت 5 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل کلیچکو نے بتایا تھا کہ دریائے ڈنیپرو کے مشرقی علاقے دارنیٹسکی میں ایک بزرگ خاتون بم شیلٹر میں ہلاک ہوئی۔
ایمرجنسی حکام کے مطابق ڈرون حملے سے چار منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگ گئی اور عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی۔ مغربی علاقے سویاتوشنسکی میں 9 منزلہ عمارت کی کئی منزلیں گر گئیں۔ 16 منزلہ رہائشی بلاک اور دیگر عمارتوں میں بھی ڈرون کے ملبے سے آگ بھڑک اٹھی۔
حکام نے الزام عائد کیا کہ روس نے دانستہ طور پر شہری اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران یوکرین کے شہر کرمینچک میں درجنوں دھماکوں کے باعث بجلی معطل ہوئی، جبکہ کریوی ریہ اور اوڈیسا میں شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
پولینڈ نے مغربی یوکرین پر فضائی حملوں کے خدشے کے باعث اپنی اور اتحادی فضائیہ کو الرٹ کر دیا۔ روس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔


Comments
Comments are closed.