پاکستان نے قازقستان کے ساتھ بحری تعاون کو فروغ دینے کے لیے کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر مشترکہ منصوبے پیش کیے ہیں جب کہ قازقستان نے پاکستانی بندرگاہوں کو اپنے اور وسیع وسطی ایشیائی خطے کے لیے ٹرانزٹ حب کے طور پر استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت منگل کو قازقستان کے سفیر یرژان کستافن اور وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چودھری کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس کا ذکر سرکاری بیان میں کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے بحری امور نے کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی اور گوادر کے فری زونز میں ممکنہ شراکت داری پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے اسٹریٹیجک پورٹ انفرااسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے قازقستان کے لیے تجارت تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، ایک ایسا ملک جو وسیع بحری رابطوں کی تلاش میں ہے۔
قازقستان کے سفیر نے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قازقستان کا مقصد پاکستانی بندرگاہوں کو نہ صرف قازقستان بلکہ وسیع وسطی ایشیائی خطے کے لیے بھی ٹرانزٹ حب کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قازقستان کے وزیر برائے مواصلات کی قیادت میں ایک وزارتی سطح کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا، جو وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کرے گا تاکہ بحری تجارت اور لاجسٹکس میں مزید تعاون تلاش کیا جا سکے۔
ادھر وفاقی وزیر نے پاکستانی بندرگاہوں کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قازقستان اور دیگر خشکی سے جڑے وسطی ایشیائی ممالک کو خلیج فارس، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا سمندری شعبہ جدید حکمت عملی اپنانے اور بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے ذریعے خطے میں تجارتی مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے۔
بیان کے مطابق وفد کے آئندہ دورے سے مشترکہ منصوبوں اور تجارتی سہولت کاری میں پیش رفت تیز ہونے کی توقع ہے، جس سے سمندری بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور بلیو اکانومی کے ذریعے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدامات علاقائی تعاون کے فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور پاکستان کے وسیع تر ہدف کے تحت جنوبی اور وسطی ایشیا میں تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس تعاون کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی بندرگاہی سرگرمیوں کو بہتر بنانا چاہتا ہے بلکہ خود کو ایک اسٹریٹجک تجارتی اور ٹرانزٹ ہب کے طور پر قائم کر کے قازقستان اور وسیع وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ معاشی یکجہتی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
جندی انور نے کہا کہ یہ بڑھتی ہوئی شراکت داری سمندری راستوں کے ذریعے اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتی ہے اور پاکستان کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیا کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے کلیدی دروازے میں تبدیل کر رہی ہے۔


Comments
Comments are closed.