یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں کے ایک ورچوئل اجلاس میں کہا ہے کہ روس کے ساتھ ساڑھے تین برس سے جاری جنگ کے بعد پائیدار امن کے لیے یوکرین کو واضح اور مؤثر سکیورٹی گارنٹیز کی ضرورت ہے۔
یہ اجلاس پولینڈ میں منعقد کیا گیا جس میں پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی، ایسٹونیا، لٹویا، لیتھوانیا اور ڈنمارک کے رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب گزشتہ شب روسی حملے میں کیف میں 22 افراد ہلاک ہوگئے۔
زیلنسکی نے کہا کہ شرکا نے روس پر دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ مستقبل کے سفارتی مذاکرات کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جنگ کو طول دینے کے علاوہ کسی اور راستے پر آمادہ نہیں ہیں۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سکیورٹی گارنٹیز پر بات چیت جاری ہے، جس میں یہ طے ہونا چاہیے کہ روس کے دوبارہ حملہ آور ہونے کی صورت میں زمینی، فضائی اور سمندری دفاع میں کون یوکرین کا ساتھ دے گا۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ یورپ کو متحد ہو کر ٹرمپ کو دکھانا ہوگا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے عزم موجود ہے۔
ٹرمپ کی کوشش ہے کہ پیوٹن اور زیلنسکی کی براہ راست ملاقات ہو، اور وہ ماسکو پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ جمعہ کو نیویارک میں یوکرینی حکام امریکی انتظامیہ سے مزید بات چیت کریں گے۔


Comments
Comments are closed.