امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے جمعرات کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے، جس کے تحت ٹرمپ نے اُنہیں مرکزی بینک سے برطرف کرنے کی کوشش کی، ایسے وقت میں جب ٹرمپ فیڈ پر دباؤ میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ”یہ مقدمہ صدر ٹرمپ کی اُس غیرمثالی اور غیرقانونی کوشش کو چیلنج کرتا ہے جس کے ذریعے وہ گورنر کُک کو اُن کے منصب سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو یہ فیڈرل ریزرو بورڈ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا۔“
گورنر کُک عدالت سے یہ فیصلہ چاہتی ہیں کہ ان کا بطور فیڈ گورنر تقرر برقرار رکھا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھ سکیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے عدالت سے ”فوری اعلامیہ اور حکمِ امتناعی“ جاری کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ نہ صرف ان کی اپنی حیثیت کا تحفظ ہو بلکہ فیڈ کے دیگر عہدیداروں کی کانگریس کے تحت حاصل کردہ خودمختاری بھی برقرار رہے۔
کُک کی قانونی کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کی شب ایک اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک خط جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کُک کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ اس اقدام کی بنیاد کے طور پر ٹرمپ نے اُن پر رہائشی قرض (مارگیج) معاہدوں میں مبینہ غلط بیانی کا الزام عائد کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف فیڈ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے بلکہ ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے، جس سے مرکزی بینک پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
الزام ہے کہ لیزا کُک نے دو مختلف ریاستوں، مشیگن اور جارجیا، میں بیک وقت دو بنیادی رہائش گاہوں کا دعویٰ کیا تھا، تاہم نہ تو اُن پر کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ واقعات اُن کی موجودہ سرکاری حیثیت کے دوران پیش آئے۔


Comments
Comments are closed.