ایس این جی پی ایل کی 50 فیصد ٹرانسپورٹیشن ٹیرف بڑھانے کی تجویز، صنعتی حلقوں کا شدید ردعمل
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے اپنے ٹرانسپورٹیشن ٹیرف میں 50 فیصد اضافے کی تجویز دے کر صنعتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسٹیک ہولڈرز نے اس اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حال ہی میں نجی شعبے کی شمولیت سے کھلنے والی نازک مسابقتی مارکیٹ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی عوامی سماعت میں انکشاف ہوا کہ گیس کی مسلسل قلت کے باوجود ایس این جی پی ایل کے آپریٹنگ اخراجات 2019-20 کے 66 ارب روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 94 ارب روپے تک جا پہنچے جبکہ کمپنی کا منافع بھی تقریباً دگنا ہو کر 38.9 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کے سی ای او غیاث پراچہ سمیت صنعتی نمائندوں نے کہا کہ مجوزہ ٹیرف میں اضافہ نجی شعبے کی بقا کے لیے خطرہ ہے اور اس سے ایس این جی پی ایل کی بالادستی مزید مستحکم ہو جائے گی، جس سے مسابقت کا عمل متاثر ہوگا۔
غیاث پراچہ کا کہنا تھا کہ شدید ہوتے گیس بحران کو شعبے کی نااہلیاں مزید سنگین بنا رہی ہیں لیکن ایس این جی پی ایل کے منافع میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے اوگرا سے مطالبہ کیا کہ سرکاری یوٹیلیٹیز کا جامع کارکردگی آڈٹ کرایا جائے اور گیس کے غیر شمار شدہ نقصانات (یو ایف جی) کے لیے یکساں معیارات نافذ کیے جائیں۔
نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز نے مکمل مارکیٹ لبرلائزیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے براہِ راست گھریلو صارفین کو گیس فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایل این جی کی اضافی مقدار کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس کے باعث ملکی گیس کی فراہمی میں 400 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی واقع ہوئی ہے۔
ناقدین کے مطابق موجودہ ٹیرف فریم ورک فکسڈ ریٹرن ماڈل پر مبنی ہے جو کمپنی کے منافع کو منتقل کی جانے والی گیس کی اصل مقدار سے الگ کر دیتا ہے۔ غیاث پراچہ نے نشاندہی کی کہ متبادل توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ایس این جی پی ایل کی سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں، لیکن اخراجات اور منافع غیر معمولی حد تک بلند ہیں۔
اصلاحاتی تجاویز میں کثیر سپلائر اور کثیر خریدار مارکیٹ اسٹرکچر کا نفاذ، ایس این جی پی ایل کے تنظیمی و اکاؤنٹنگ نظام میں شفافیت کے لیے جامع اصلاحات، موجودہ اثاثہ بنیاد ریٹرن فارمولے کی جگہ فی ایم ایم بی ٹی یو فکسڈ مارجن، اور افراطِ زر سے منسلک کثیر سالہ فکسڈ ٹرانسپورٹیشن ٹیرف شامل ہیں جو سالانہ ریگولیٹری جائزے کے تابع ہو۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے گیس مارکیٹ کی مکمل لبرلائزیشن کی حمایت کرتے ہوئے نجی کمپنیوں پر عائد سپلائی کیپ ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور ایل این جی سپلائرز کے لیے الگ بینچ مارکس مقرر کرنے کی سفارش کی۔ ایسوسی ایشن نے ملکی قلت کے باوجود ایل این جی کارگو کی دیگر مقامات پر منتقلی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.