یورپی رہنما یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے قبل پیر کو واشنگٹن پہنچیں گے، تاکہ یوکرین کے مؤقف کو مضبوط کیا جا سکے۔ ٹرمپ، جو حال ہی میں الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملے ہیں، زیلنسکی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جلد امن معاہدہ کریں اور جنگ کے خاتمے پر آمادہ ہوں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر جنگ جاری رہی تو ہزاروں افراد مزید مارے جائیں گے، تاہم امن کے لیے دونوں ممالک کو رعایتیں دینی ہوں گی۔ ادھر ٹرمپ کے قریبی حکام نے اشارہ دیا کہ مشرقی ڈونباس کا مستقبل کسی بھی ڈیل کا مرکزی نکتہ ہو سکتا ہے، جبکہ یوکرین کو نیٹو رکنیت کے بجائے امریکا سے ایک دفاعی معاہدے کی پیشکش پر غور کیا جا رہا ہے۔
یورپی رہنماؤں نے اتوار کو برلن میں اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ یوکرین کی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی مذاکرات میں سرحدوں کی تبدیلی قابل قبول نہیں۔ برطانوی، فرانسیسی اور جرمن رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ جنگ رکنے کے بعد یوکرین کے دفاع، فضا اور سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ایک ری ایشورنس فورس تعینات کی جا سکتی ہے۔
زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپ کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور کسی بھی سکیورٹی ضمانت کو عملی اور مؤثر ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈونباس یا دیگر علاقوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے زیلنسکی کو فون پر بتایا کہ پوٹن محاذ کو منجمد کرنے کے بدلے ڈونیسک پر مکمل قبضہ چاہتے ہیں، تاہم زیلنسکی نے یہ شرط مسترد کر دی۔ جنگ میں اب تک دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور سفارتی کوششوں کے باوجود امن ابھی تک دور نظر آ رہا ہے۔


Comments
Comments are closed.