محسن نقوی کے اخراجات کی مد میں ادائیگیاں، پی سی بی میں 4.17 ملین روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں 4 کروڑ 17 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جہاں چیئرمین محسن نقوی کے یوٹیلیٹی بلز، ایندھن اور رہائش کے اخراجات کی مد میں غیر مجاز ادائیگیاں کی گئیں، حالانکہ وہ بیک وقت وفاقی وزیر داخلہ کے منصب پر بھی فائز ہیں۔
آڈٹ رپورٹ 25-2024 کے مطابق، فروری سے جون 2024 کے دوران پی سی بی نے لاہور میں محسن نقوی کی رہائش گاہ کے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں 2 کروڑ 45 لاکھ روپے، سرکاری ٹویوٹا فورچیونر گاڑی کے ایندھن پر 1 کروڑ 16 لاکھ روپے، اور اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش پر 56 لاکھ روپے خرچ کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اخراجات غیر مجاز تھے کیونکہ چیئرمین کو وفاقی وزیر ہونے کے ناطے پہلے ہی وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت (تنخواہیں، الاؤنسز اور مراعات) ایکٹ 1975 کے تحت یہ سہولیات حاصل تھیں۔
پی سی بی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا گیا کہ بورڈ کے بائی لاز کے تحت یہ ادائیگیاں درست تھیں۔ آڈیٹرز نے واضح کیا کہ کوئی بھی فرد دو مختلف ذرائع سے ایک ہی سہولیات کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ محکماتی اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) نے جنوری 2025 کے اجلاس میں ہوٹل رہائش کے اخراجات کی ریکوری کا حکم دیا اور باقی اخراجات پر وضاحت طلب کی۔
رپورٹ میں غیر مجاز ادائیگیوں کی مکمل وصولی اور تصدیق شدہ ریکارڈ پیش کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی سی بی پہلے ہی پی ایس ایل 9 کی مالیاتی مینجمنٹ پر سخت جانچ کے عمل سے گزر رہا ہے، جس سے ملک کے سب سے بڑے کرکٹنگ ادارے میں طرزِ حکمرانی اور احتساب سے متعلق مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.