ملک کے شمالی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلابی واقعات میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کم از کم 344 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ہفتہ کے روز پہاڑی علاقوں میں سیاحت پر پابندی عائد کرنے کی ایڈوائزری جاری کردی۔
این ڈی ایم اے کی یومیہ مون سون صورتحال رپورٹ کے مطابق مزید 151 افراد جاں بحق اور 120 زخمی ہوئے جس کے بعد رواں برس ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 645 اور زخمیوں کی تعداد 905 ہوگئی۔ صرف خیبرپختونخوا میں 144 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 126 بونیر، 12 شانگلہ، پانچ سوات اور ایک مانسہرہ میں شامل ہے۔ گلگت بلتستان میں پانچ اور آزاد کشمیر میں ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 50 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں 24 خیبرپختونخوا، 16 گلگت بلتستان، سات آزاد کشمیر اور تین اسلام آباد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 110 مال مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ اب تک مجموعی طور پر 1,913 مکانات متاثر ہوئے ہیں جن میں 637 مکمل طور پر تباہ اور 1,276 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ساتویں اسپیل کی بارشوں نے بالائی علاقوں میں تباہی مچادی جہاں بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے کئی جانیں لے لیں۔ بیشتر ہلاکتیں مکانات گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے سے ہوئیں۔
این ڈی ایم اے کے ترجمان نے واضح کیا کہ عوام کے تحفظ کے لیے متاثرہ علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ خطرناک مقامات پر عوامی آمد و رفت کو روکا جائے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دفعہ 144 کے تحت بھی پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔ عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں تاکہ کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.