گلگت بلتستان میں مٹی کے تودے گرنے سے 7 افراد جاں بحق
- ترجمان کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب رضاکار پانی کی نہر کی بحالی کا کام کر رہے تھے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے پیر کو بتایا کہ گلگت کے دینور نالہ علاقے میں بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے کے گرنے سے کم از کم سات افراد جاں بحق اور تین سے زائد زخمی ہو گئے۔
فیض اللہ فراق کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ رات تقریباً دو بجے پیش آیا، جب لگ بھگ پندرہ رضاکار ایک نہر کی بحالی کا کام کر رہے تھے کہ اچانک زمین کا بڑا حصہ گر گیا اور وہ ملبے تلے دب گئے۔
انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور حکام کو امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے بعد گلگت کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
فیض اللہ فراق نے بتایا کہ اس سانحے کے بعد شہر میں سوگ کی فضا ہے۔ دینور میں مٹی کے تودے تلے دب کر جاں بحق ہونے والے سات رضاکاروں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
مون سون کے حالیہ موسم میں سیلاب اور شدید بارشوں نے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ 25 جولائی کو ترجمان نے کہا تھا کہ خطے میں اب تک کم از کم نو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے بتایا تھا کہ دس سے بارہ افراد لاپتہ ہیں جبکہ تین پھنسے ہوئے سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26 جون سے اب تک خطے میں 500 سے زائد مکانات اور 27 پل سیلابی ریلوں سے تباہ ہوئے ہیں، سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ضلع دیامر میں ہوا۔
یاد رہے کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے 8 اگست کو گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ اور وزیرِاعلیٰ گلبر خان کے ساتھ خطے کے دورہ کے دوران علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
وزیرِاعظم آفس کے مطابق گلگت بلتستان کی قیادت نے وزیرِاعظم کو حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور اس سے ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی، جبکہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 299 ہو گئی ہے۔
وزیرِاعظم اور گورنر کی ملاقات میں بارشوں اور سیلاب میں جان کی بازی ہارنے والوں کے لیے دعا بھی کی گئی۔
وزیرِاعلیٰ نے وزیرِاعظم کو حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی تفصیلات فراہم کیں۔
ملاقاتوں کے بعد وزیرِاعظم نے گلگت میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر شہباز شریف نے فورم کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مربوط اور بھرپور کوششیں کی جائیں۔
انہوں نے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کو زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے فنڈز کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔


Comments
Comments are closed.