جنوبی کوریا اور ویتنام پیر کو ایک سربراہی اجلاس میں معاشی اور اسٹریٹیجک تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عہد کریں گے۔ دونوں سابق سرد جنگ کے حریف بدلتے ہوئے عالمی تجارتی ماحول میں اپنے کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ، جو 4 جون کو عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی غیر ملکی مہمان کی میزبانی کر رہے ہیں، ویتنامی رہنما تو لام سے تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر بات کریں گے۔ لام، جو ویتنامی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں، وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کے ساتھ چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔
اجلاس میں کم از کم 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے جن میں جوہری و قابلِ تجدید توانائی، مالیاتی پالیسیوں اور سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون شامل ہے۔ ویتنامی صدر کا یہ نایاب دورہ جنوبی کوریائی کمپنیوں کے لیے ویتنام میں بڑے انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرے گا۔
سام سنگ سمیت کئی بڑی جنوبی کوریائی کمپنیاں ویتنام کو برآمداتی مرکز کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ٹیرف پالیسی (جنوبی کوریا پر 15 فیصد اور ویتنام پر 20 فیصد) نے سرمایہ کاری کے مستقبل پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔


Comments
Comments are closed.