BR100 Increased By (1.56%)
BR30 Increased By (1.52%)
KSE100 Increased By (1.33%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.40 Increased By ▲ 0.51 (1.9%)
BOP 34.48 Increased By ▲ 0.79 (2.34%)
CNERGY 10.92 Increased By ▲ 0.31 (2.92%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.36 (1.99%)
DGKC 213.50 Increased By ▲ 3.60 (1.72%)
FABL 102.19 Increased By ▲ 3.24 (3.27%)
FCCL 54.80 Increased By ▲ 1.06 (1.97%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 24.23 Increased By ▲ 0.41 (1.72%)
HBL 305.75 Increased By ▲ 3.33 (1.1%)
HUBC 222.25 Increased By ▲ 3.31 (1.51%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.16 (2.2%)
LOTCHEM 30.04 Increased By ▲ 0.39 (1.32%)
MLCF 97.50 Increased By ▲ 1.14 (1.18%)
OGDC 322.15 Increased By ▲ 3.93 (1.23%)
PAEL 42.80 Increased By ▲ 1.03 (2.47%)
PIBTL 17.22 Increased By ▲ 0.41 (2.44%)
PIOC 303.66 Increased By ▲ 7.04 (2.37%)
PPL 224.23 Increased By ▲ 4.06 (1.84%)
PRL 52.61 Increased By ▲ 3.56 (7.26%)
SNGP 108.00 Increased By ▲ 1.87 (1.76%)
SSGC 29.63 Increased By ▲ 0.49 (1.68%)
TELE 8.98 Increased By ▲ 0.16 (1.81%)
TPLP 13.07 Increased By ▲ 0.56 (4.48%)
TRG 60.62 Increased By ▲ 0.40 (0.66%)
UNITY 10.17 Increased By ▲ 0.15 (1.5%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے بھارت پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد گارمنٹس بنانے بھارتی ادارے مشکلات کا شکار ہیں، اور کئی امریکی خریدار پیداوار کو بھارت سے باہر منتقل کرنے یا ٹیرف کا بوجھ بانٹنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معروف گارمنٹس ساز کمپنی پرل گلوبل، جو گیپ اور کولز جیسے امریکی برانڈز کو سپلائی کرتی ہے، نے اپنے 17 کارخانوں کو بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ویتنام اور گواٹے مالا میں استعمال کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ بھارتی درآمدات پر لگنے والے بھاری امریکی محصولات سے بچا جا سکے۔

ابتدا میں اپریل میں تجویز کردہ ٹرمپ ٹیرف میں بھارت پر کم شرح لاگو تھی، جسے امریکہ کے 16 ارب ڈالر کے ملبوسات برآمدی مارکیٹ میں تیزی سے توسیع کا موقع سمجھا جا رہا تھا۔

تاہم، واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں بگاڑ کے بعد اب بھارت کو 50 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جبکہ بنگلہ دیش اور ویتنام پر 20 فیصد اور چین پر 30 فیصد ٹیرف لاگو ہے۔ یہ 50 فیصد ٹیرف دو حصوں میں نافذ ہو رہا ہے: 25 فیصد کا اطلاق جمعرات سے ہو چکا ہے اور مزید 25 فیصد 28 اگست کو روسی تیل خریدنے کی سزا کے طور پر لگے گا۔

پرل گلوبل کا تقریباً نصف کاروبار امریکہ سے آتا ہے۔ کچھ امریکی گاہکوں نے تجویز دی ہے کہ بھارت سے سپلائی جاری رکھی جائے اگر کمپنی ٹیرف کا کچھ بوجھ برداشت کرے، مگر مینیجنگ ڈائریکٹر پلاب بنرجی کے مطابق یہ ممکن نہیں۔ کئی برآمد کنندگان کو امریکی خریداروں نے آرڈرز روکنے کو کہا ہے۔ نئی دہلی نے ان محصولات کو ”انتہائی بدقسمتی“ قرار دیا ہے۔

بھارت کی ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی مزدوروں کی کمی اور محدود پیداواری صلاحیت کا سامنا کر رہی تھی۔ آرڈرز کا بیرون ملک منتقلی وزیر اعظم نریندر مودی کے ”میک ان انڈیا“ منصوبے کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

رچاکو ایکسپورٹس، جو سالانہ 95 فیصد آمدنی امریکہ سے کماتی ہے، نیپال میں پیداواری اڈہ قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی جیولری و واچ ساز کمپنی ٹائٹن اور گارمنٹس ساز ریمونڈ بھی مشرق وسطیٰ اور ایتھوپیا میں متبادل تلاش کر رہے ہیں، جہاں امریکی ٹیرف کم ہے۔

ملبوسات کا مرکز جنوبی بھارت کا تِرُوپور، جو ملک کی ایک تہائی برآمدات کا ذمہ دار ہے، میں بھی گھبراہٹ پھیل چکی ہے۔ کچھ کارخانوں کو آرڈرز روکنے کی ہدایت ملی ہے، جبکہ کچھ اگست کے آخر سے پہلے زیادہ سے زیادہ مال بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اضافی 25 فیصد ٹیرف سے بچ سکیں۔

Comments

Comments are closed.