ہزاروں افراد منگل کے روز بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اس تاریخی دن کی پہلی سالگرہ منانے کے لیے جمع ہوں گے، جب مہنگائی اور ریاستی جبر کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج نے وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
اس موقع پر جلسوں، کنسرٹس اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جبکہ دن کا اختتام نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کی جانب سے متوقع ”جولائی اعلامیہ“ پر ہوگا، جسے جمہوری اصلاحات کا خاکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
محمد یونس نے قوم سے اپنے پیغام میں کہا کہ ”ہم سب مل کر ایسا بنگلادیش تعمیر کریں گے جہاں آمریت کبھی نہ لوٹے۔“ انہوں نے ان افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کیں۔
محمد یونس کا کہنا تھا کہ 2026 کے اوائل میں شفاف انتخابات کرائے جائیں گے، جبکہ ان کی عبوری حکومت سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے اصلاحاتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور دیگر اہم جماعتوں نے اس اعلامیے کی حمایت کی ہے، تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ قانونی فریم ورک یا پارلیمانی منظوری کے بغیر یہ محض علامتی حیثیت رکھتا ہے۔
شیخ حسینہ نے بھی عوام کے نام اپنے کھلے خط میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے کبھی استعفیٰ نہیں دیا اور ملک دوبارہ ابھر کر سامنے آئے گا۔
ڈھاکہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، جبکہ سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔


Comments
Comments are closed.