BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.07%)
KSE100 Increased By (0.59%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.72 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.34 (1.35%)
BOP 34.36 Increased By ▲ 0.37 (1.09%)
CNERGY 8.13 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 20.99 Increased By ▲ 0.15 (0.72%)
DGKC 195.52 Increased By ▲ 2.55 (1.32%)
FABL 89.99 Increased By ▲ 0.20 (0.22%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.09 Increased By ▲ 0.14 (0.78%)
GGL 19.29 Increased By ▲ 0.32 (1.69%)
HBL 287.00 Increased By ▲ 1.50 (0.53%)
HUBC 215.39 Increased By ▲ 1.01 (0.47%)
HUMNL 10.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 323.02 Increased By ▲ 3.06 (0.96%)
PAEL 39.92 Increased By ▲ 0.50 (1.27%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.41 (2.46%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 229.68 Increased By ▲ 1.50 (0.66%)
PRL 34.83 Increased By ▲ 0.15 (0.43%)
SNGP 99.47 Increased By ▲ 0.29 (0.29%)
SSGC 26.85 Increased By ▲ 0.25 (0.94%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.45 (5.43%)
TPLP 8.71 Increased By ▲ 0.49 (5.96%)
TRG 70.01 Increased By ▲ 0.30 (0.43%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ 6.17 ٹریلین روپے رہا جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5.4 فیصد بنتا ہے — اور یہ گزشتہ 9 برسوں کی کم ترین سطح ہے۔

فنانس ڈویژن کے مطابق جولائی سے جون 2024-25 کے وفاقی و صوبائی مالیاتی کارکردگی کے خلاصے میں بتایا گیا کہ مجموعی آمدن 17.997 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 15.7 فیصد) رہی جب کہ اخراجات 24.165 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 21.1 فیصد) تک پہنچ گئے، یوں مالی سال کے اختتام پر بجٹ خسارہ 6.168 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 5.38 فیصد) ریکارڈ کیا گیا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 5.38 فیصد کا بجٹ خسارہ حکومت کی نظرثانی شدہ پیش گوئی 5.6 فیصد اور ابتدائی بجٹ تخمینہ 5.9 فیصد سے بہتر رہا، اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی مالی سال 2024-25 کے لیے خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے 5.6 فیصد کے برابر لگایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران 2.719 ٹریلین روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کیا جو کہ جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی ہے — اور گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے بلند سطح ہے۔

بروکریج ہاؤس کے مطابق یہ مثبت کارکردگی اس وجہ سے ممکن ہوئی کہ ٹیکس و نان ٹیکس آمدن میں اضافہ اخراجات کے مقابلے میں زیادہ رہا۔یہ سرپلس حکومت کی نظرثانی شدہ پیش گوئی (2.2 فیصد) اور آئی ایم ایف کے تخمینے (2.1 فیصد) سے بھی بہتر ثابت ہوا۔

فنانس ڈویژن کے مطابق مجموعی آمدن 17.997 ٹریلین روپے رہی، جس میں 12.722 ٹریلین روپے ٹیکس آمدن اور 5.274 ٹریلین روپے نان ٹیکس آمدن شامل تھی۔

ٹیکس آمدن میں سے ایف بی آر کی وصولی 11.744 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔

ٹاپ لائن کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولی (جس میں پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی بھی شامل ہے) کا جی ڈی پی کے ساتھ تناسب بڑھ کر 11.3 فیصد ہو گیا — جو گزشتہ 7 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ مالی سال 2023-24 میں یہ تناسب 9.7 فیصد تھا، جبکہ 2020 سے 2024 کے درمیان اس کی اوسط 9.9 فیصد رہی۔

مالی سال 2024-25 کے دوران صوبائی حکومتوں کی ٹیکس وصولی 978 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

اسی دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 114.692 ٹریلین روپے رہی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی جانب سے لگاتار تیسرے سال پرائمری سرپلس ریکارڈ کیے جانے کی توقع ہے — جو دو دہائیوں میں پہلی بار ہوگا جبکہ مجموعی بجٹ خسارہ مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کے 4 سے 4.1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جو گزشتہ 20 سال کا کم ترین سطح ہوگا۔

Comments

Comments are closed.