اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس ہفتے اپنی سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس طلب کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کی ناکام کوششوں کے بعد آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق، زیادہ طاقت کا استعمال اب ایک ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اسرائیل کا دورہ کیا اور کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی حکام نے فوجی آپریشن کو وسعت دینے اور غزہ کے کچھ حصے ضم کرنے جیسے متبادل بھی تجویز کیے ہیں۔
دوحہ میں ہونے والے مذاکرات ایک 60 روزہ جنگ بندی پر متفق ہونے میں ناکام رہے، جس کے تحت انسانی امداد فراہم کی جاتی اور حماس کے زیر حراست نصف یرغمالیوں کو رہا کیا جاتا۔
نیتن یاہو اور وٹکوف کی ملاقات کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ “امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو رہا ہے کہ صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک جامع معاہدہ ہونا چاہیے، جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی غیر مسلح کاری اور غزہ کی غیر فوجی حیثیت شامل ہو۔
تاہم، اتوار کو ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حماس مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، اور وزیراعظم فوجی فتح کی حکمت عملی کی طرف جا رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو غزہ کے مکمل قبضے کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔
فوجی قیادت نے ایسے منصوبوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، خاص طور پر ان 20 زندہ یرغمالیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے حوالے سے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے سیاسی قیادت کی حکمت عملی کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ادھر، قطر اور مصر نے فرانس و سعودی عرب کے دو ریاستی حل کی تجویز کی حمایت کی ہے، جس میں حماس سے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم، حماس نے کہا ہے کہ وہ حکومت چھوڑنے پر تیار ہے لیکن غزہ کا مستقبل فلسطینیوں کو طے کرنا چاہیے، بیرونی طاقتوں کو نہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سعار نے کہا کہ فریقین کے درمیان ابھی بھی فاصلے بہت زیادہ ہیں، اور ”ہم سفارتی حل چاہتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جنگ ختم کرنے کی شرائط کیا ہوں گی؟“


Comments
Comments are closed.