امریکہ کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد، پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدکنندگان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکی منڈی میں قیمتیں بڑھ جائیں گی جس کا ابتدائی اثر برآمدات پر پڑے گا، تاہم اُنہیں یقین ہے کہ وقت کے ساتھ تجارتی حالات بہتر ہو جائیں گے۔
لاکھانی سلک ملز کے ڈائریکٹر اور نوجوان برآمدکنندہ فرحان لاکھانی نے کہا کہ امریکی مارکیٹ میں ان کی فروخت پر یہ ٹیرف منفی طور پر اثر انداز ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن امریکہ پاکستان کی سب سے منافع بخش منڈی تھی جو اب متاثر ہو چکی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیرف کی وجہ سے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فرحان لاکھانی کے مطابق اگرچہ پاکستان پر عائد ٹیرف بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کم ہیں، تاہم مقامی سطح پر پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ فائدہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے مستقبل کے حوالے سے پر امید رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فرحان لاکھانی نے یہ بات وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بتائی، جب وہ کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری ”مائی کراچی“ نمائش کے دوران لاکھانی سلک ملز کے اسٹال پر پہنچے۔
اس موقع پر رضوان لاکھانی، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر جاوید بلوانی، زبیر موتی والا اور ادریس میمن بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اور برآمدات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ حکومت ہمیشہ صنعتی مسائل کے حل کو ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کی روشنی میں صوبائی حکومت برآمدات پر مبنی صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔


Comments
Comments are closed.