ایران کا پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم
- یہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا بطور صدر ایران پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہفتہ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
لاہور آمد پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر دو بچوں نے ایرانی صدر کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک اعلیٰ سطح وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
اپنے قیام کے دوران ایرانی صدر صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سے وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ یہ ملاقاتیں گزشتہ برس اپریل میں مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران زیرِ بحث آنے والے تجارتی معاہدوں، سرحدی مارکیٹوں اور دیگر امور پر پیش رفت کا تسلسل ہوں گی۔ یہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا بحیثیت صدر ایران پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
ایرانی وفد کے دورے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
بعد ازاں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے مزار پر حاضری دی، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے عظیم مفکر اور شاعر مشرق کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کے استحکام، پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور عالم اسلام کی بہتری کے لیے خصوصی دعا کرائی۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مہمانوں کی کتاب میں علامہ اقبال کی ادبی خدمات کے حوالے سے اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔
اس سے قبل پاکستان روانگی سے قبل ایرانی صدر نے کہا تھا کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہیں، اور دونوں ممالک سالانہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان قیام پاکستان سے ہی گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اقتصادی، سائنسی، ثقافتی اور سرحدی امور میں تعاون کر رہے ہیں اور دونوں اقوام کے درمیان مضبوط رشتہ قائم ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس بات کو اجاگر کیا کہ حالیہ اسرائیلی جارحیت اور امریکی حملے کے دوران پاکستان نے ایران کی خودمختاری کے دفاع کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ زمینی، فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے سرحدی تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے، اور پاکستان کے ذریعے ایران، چین اور پاکستان کو ملانے والی سلک روڈ سے یورپ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اور سرحدی مسائل دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہیں اور علاقائی سلامتی باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دشمن مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی سازشیں کر رہا ہے لیکن ایران ان سازشوں کو ناکام بنائے گا، اور تہران اسلام آباد کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ اور تجارتی تعلقات کے وسعت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر کی نور خان ایئر بیس آمد پر وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے استقبال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’’یہ اہم دورہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنے گا،‘‘ اور وہ ایرانی وفد کے ساتھ ’’موثر بات چیت‘‘ کے منتظر ہیں۔
پہلے مرحلے میں ایرانی صدر لاہور پہنچے جہاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کا خیرمقدم کیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور اسلام آباد نے حالیہ دنوں میں تہران کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
حکام کے مطابق بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں علاقائی ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
دورے کے دوران صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اتوار کو صدر آصف زرداری سے ملاقات اور وزیراعظم شہباز شریف سے وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔
اسلام آباد میں اہم مقامات پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ایرانی وفد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان دو سال کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے ایرانی صدر ہیں۔ ان سے پہلے مرحوم صدر ابراہیم رئیسی نے اپریل 2024 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جو ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کی شہادت سے چند ہفتے قبل ہوا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان اس سے قبل مئی میں تہران میں ملاقات کر چکے ہیں، جب پاکستانی وزیراعظم نے ایران کے دورے کے دوران مسئلہ کشمیر پر حمایت پر تہران کا شکریہ ادا کیا تھا۔
اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.