ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 82 کے تحت 0.25 فیصد جرمانہ واپس لے لیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کلیئرنگ ایجنٹس کو غیر ضروری پریشانی سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، حالانکہ سرکاری طور پر اس کی منظوری یا اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ ایف بی آر بندرگاہوں پر بھیڑ کم کرنے اور کسٹمز اسٹیشنز پر قیام کی مدت گھٹانے کے لیے قانون میں ترامیم کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جس کے تحت مقررہ مدت میں مال کی کلیئرنس نہ ہونے پر جرمانے کی تجاویز دی گئی تھیں۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق، اگر مال کی آمد کے 10 دن کے اندر ہوم کنزمپشن، ویئر ہاؤسنگ یا ٹرانس شپمنٹ کے لیے گڈز ڈیکلریشن جمع نہ کروایا جائے تو مالکان پر جرمانہ عائد کیا جانا تھا، جس کا اعلان وفاقی حکومت کرتی۔
اسی طرح، اگر گڈز ڈیکلریشن جہاز کی برتھنگ سے پہلے جمع کروایا جائے لیکن کسٹمز اسسمنٹ مکمل ہونے اور واجب الادا ٹیکسز ادا کرنے کے بعد تین دن کے اندر مال کو اسٹیشن سے نہیں ہٹایا جاتا، تب بھی جرمانے کی تجویز تھی۔
مزید یہ کہ دفعہ 83(1) میں ترامیم تجویز کی گئی تھیں تاکہ کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹمز کے ذریعے کلیئرنس کا طریقہ واضح کیا جا سکے۔ اگر گڈز ڈیکلریشن جہاز کی برتھنگ کے بعد جمع کروایا جائے اور مال تین دن کے اندر اسٹیشن سے منتقل نہ کیا جائے تو بھی جرمانہ عائد ہونا تھا۔
ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز سے متعلقہ حکام کے سامنے یہ معاملہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کی ایسوسی ایشن نے بروقت اٹھایا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.