BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

صدر ایمانوئل میکرون کے اس اعلان نے کہ فرانس ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا پہلا مغربی رکن ملک بن جائے گا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور واشنگٹن تک سفارتی حلقوں میں گہری ہلچل پیدا کر دی ہے۔

تاہم یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا۔

اپریل میں جب میکرون نے غزہ کی سرحد کے قریب مصری شہر العریش کا دورہ کیا، تو وہاں جاری انسانی بحران نے انہیں گہرے اثر میں لے لیا۔ وطن واپسی پر انہوں نے واضح طور پر عندیہ دیا کہ پیرس جلد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

میکرون نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک سفارتی منصوبہ تشکیل دیا تھا، جس کے تحت فرانس، برطانیہ اور کینیڈا جیسے G7 اتحادیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے، جبکہ اقوامِ متحدہ کی ایک کانفرنس کے ذریعے عرب ممالک کو اسرائیل سے متعلق نرم مؤقف اپنانے پر آمادہ کیا جائے۔ تاہم کئی ہفتوں کی سفارتی کوششوں کے باوجود وہ دیگر اہم ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

تین سفارت کاروں کے مطابق برطانیہ امریکا کے ردعمل سے گریز کرنا چاہتا تھا جبکہ کینیڈا نے بھی اسی مؤقف کو اپنایا جس کے نتیجے میں میکرون کو تنہا یہ قدم اٹھانا پڑا۔

ایک فرانسیسی سفارتکار کے مطابق یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ ہم مزید شراکت داروں کا انتظار نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانس ستمبر میں مجوزہ دو ریاستی حل پر کانفرنس سے قبل مزید ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

فرانس کے اندر بھی میکرون کو فوری اقدام کے لیے عوامی دباؤ کا سامنا تھا، کیونکہ غزہ سے موصول ہونے والی دل دہلا دینے والی تصاویر پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ تاہم چونکہ فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلم اور یہودی برادریاں آباد ہیں اور سیاسی منظرنامہ بھی شدید تقسیم کا شکار ہے، اس لیے کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آ رہا تھا جو ہر فریق کو مطمئن کر سکے۔

اسرائیل اور اس کا سب سے طاقتور حامی، امریکا، فرانس کے اس اقدام پر شدید تنقید کر چکے ہیں، اور اسے ’’حماس کے لیے انعام‘‘ قرار دیا ہے — وہی حماس جو غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے اور جس کے 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے کے بعد موجودہ جنگ کا آغاز ہوا۔

میکرون نے اس فیصلے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے تفصیلی مشاورت کی تھی۔

ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے ردعمل میں کہا کہ فرانس کا فیصلہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے میکرون کو اچھا آدمی بھی قرار دیا۔

کانفرنس پلان

فرانسیسی حکام پہلے اس بات پر غور کر رہے تھے کہ جون میں اقوامِ متحدہ میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں فلسطینی ریاست کے لیے روڈ میپ کا اعلان کیا جائے، جس کا مقصد ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام اور ساتھ ہی اسرائیل کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا تھا۔

تاہم یہ کانفرنس شدید امریکی سفارتی دباؤ اور ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد مؤخر کردی گئی۔

میکرون کا جمعرات کا اعلان دراصل اسی کانفرنس کے اب نئے شیڈول اور تبدیل شدہ فارمیٹ سے جڑا ہوا ہے جو اب پیر اور منگل کو وزارتی سطح پر منعقد ہونے جا رہی ہے۔

ساتھ ہی فرانس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ستمبر میں ایک علیحدہ سربراہی اجلاس منعقد کرے گا، جس میں مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومتیں شرکت کریں گی، اور میکرون اسی موقع پر فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔

Comments

Comments are closed.