وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور آسیان خطے کے درمیان اقتصادی روابط کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مشترکہ ترقی، خوشحالی اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر سیکریٹریٹ میں منعقدہ مشاورتی نشست سے خطاب کر رہے تھے، جس کا موضوع : ”پاکستان اور آسیان خطے کے درمیان اقتصادی انضمام“تھا۔
نشست میں آسیان رکن ممالک کے سفیروں، اعلیٰ سرکاری حکام، تجارتی و کاروباری رہنماؤں اور نجی و سرکاری شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اپنے کلیدی خطاب میں رانا تنویر حسین نے وفاقی چیمبر کے صدر عاطف اکرام شیخ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب علاقائی تعاون اور تجارتی سفارت کاری مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے، اس نوعیت کی نشستیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان دیرینہ ثقافتی، تاریخی اور تزویراتی تعلقات موجود ہیں، تاہم باہمی تجارت کا حجم اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ انہوں نے تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے، مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنے، اور دو طرفہ و کثیرالجہتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مربوط اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے ٹیکسٹائل، زراعت، دواسازی، آئی ٹی اور توانائی جیسے شعبوں کو باہمی تعاون کے لیے انتہائی موزوں قرار دیا جہاں عملی شراکت داری سے نمایاں اقتصادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ اور ہنر مندی کے فروغ میں آسیان ممالک کی مہارتوں سے استفادے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عوامی سطح پر روابط کے فروغ کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے ویزا پالیسی کو آسان بنایا جانا چاہیے۔ ان کے بقول سافٹ کنیکٹیوٹی خطوں کے درمیان اعتماد سازی اور دیرپا تعاون کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان سی پیک کے ذریعے وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ آسیان پاکستان کو مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے سے مزید جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے علاقائی اقتصادی انضمام اور مؤثر تجارتی سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے مکمل عزم کا اعادہ کیا، اور FPCCI، ECO CCI اور CACCI جیسے اداروں کے کردار کو سراہا جو بین الاقوامی سطح پر کاروباری روابط کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس نشست کو محض ایک مکالمہ نہیں، بلکہ ایک ایسا روڈ میپ قرار دیا جو باہمی ترقی، خوشحالی اور علاقائی استحکام کی راہ ہموار کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.