BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے بدھ کے روز کہا کہ امیر ممالک ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کریں، بصورت دیگر وہ ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک کو ہرجانہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔

چھوٹے جزیرہ ممالک اور ماحولیاتی گروپوں نے اس فیصلے کو بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک کو جوابدہ بنانے کے لیے قانونی سنگ میل قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی کے ”ہنگامی اور وجودی خطرے“ سے نمٹنا چاہیے اور اخراج میں کمی کے ٹھوس اہداف کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

جج یوجی ایواساوا نے کہا کہ ماحولیاتی معاہدوں کی ”سخت ذمہ داریوں“ کی عدم تعمیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ریاستیں اپنی دائرہ اختیار میں موجود کمپنیوں کے اقدامات کی بھی ذمہ دار ہیں۔ فوسل فیول کی پیداوار اور سبسڈیز کو قابو نہ کرنے کی صورت میں متاثرہ ممالک کو بنیادی ڈھانچے کی بحالی، ماحولیاتی نظام کی تعمیر نو اور مالی ادائیگیوں سمیت مکمل ازالہ دینا پڑ سکتا ہے۔

وانواتو کے وزیر ماحولیات رالف ریگن وانو نے فیصلے کو غیر متوقع طور پر مضبوط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رائے ”ماحولیاتی انصاف کی جدوجہد کا ایک طاقتور ہتھیار“ ہے۔

جج ایواساوا نے کہا کہ قومی ماحولیاتی منصوبے بلند ترین عزائم پر مبنی ہوں اور 2015 کے پیرس معاہدے کے اہداف پورے کریں تاکہ عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ”صاف اور پائیدار ماحول کا انسانی حق دیگر انسانی حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے“۔

فیصلہ پابند نہ ہونے کے باوجود قانونی اور سیاسی طور پر اثر رکھتا ہے اور مستقبل کے ماحولیاتی مقدمات اسے نظرانداز نہیں کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ عالمی سطح پر ماحولیاتی احتساب کے نئے دور کا آغاز ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ صنعتی ممالک، جو سب سے زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، مسئلے کے حل میں قیادت کریں۔

Comments

Comments are closed.