اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے بدھ کے روز کہا کہ امیر ممالک ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کریں، بصورت دیگر وہ ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک کو ہرجانہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔
چھوٹے جزیرہ ممالک اور ماحولیاتی گروپوں نے اس فیصلے کو بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک کو جوابدہ بنانے کے لیے قانونی سنگ میل قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی کے ”ہنگامی اور وجودی خطرے“ سے نمٹنا چاہیے اور اخراج میں کمی کے ٹھوس اہداف کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔
جج یوجی ایواساوا نے کہا کہ ماحولیاتی معاہدوں کی ”سخت ذمہ داریوں“ کی عدم تعمیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ریاستیں اپنی دائرہ اختیار میں موجود کمپنیوں کے اقدامات کی بھی ذمہ دار ہیں۔ فوسل فیول کی پیداوار اور سبسڈیز کو قابو نہ کرنے کی صورت میں متاثرہ ممالک کو بنیادی ڈھانچے کی بحالی، ماحولیاتی نظام کی تعمیر نو اور مالی ادائیگیوں سمیت مکمل ازالہ دینا پڑ سکتا ہے۔
وانواتو کے وزیر ماحولیات رالف ریگن وانو نے فیصلے کو غیر متوقع طور پر مضبوط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رائے ”ماحولیاتی انصاف کی جدوجہد کا ایک طاقتور ہتھیار“ ہے۔
جج ایواساوا نے کہا کہ قومی ماحولیاتی منصوبے بلند ترین عزائم پر مبنی ہوں اور 2015 کے پیرس معاہدے کے اہداف پورے کریں تاکہ عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ”صاف اور پائیدار ماحول کا انسانی حق دیگر انسانی حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے“۔
فیصلہ پابند نہ ہونے کے باوجود قانونی اور سیاسی طور پر اثر رکھتا ہے اور مستقبل کے ماحولیاتی مقدمات اسے نظرانداز نہیں کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ عالمی سطح پر ماحولیاتی احتساب کے نئے دور کا آغاز ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ صنعتی ممالک، جو سب سے زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، مسئلے کے حل میں قیادت کریں۔


Comments
Comments are closed.