BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.23 (0.39%)
BIPL 25.43 Increased By ▲ 0.23 (0.91%)
BOP 34.51 Increased By ▲ 0.52 (1.53%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 196.09 Increased By ▲ 3.12 (1.62%)
FABL 89.99 Increased By ▲ 0.20 (0.22%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
GGL 19.07 Increased By ▲ 0.10 (0.53%)
HBL 287.15 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
HUBC 215.38 Increased By ▲ 1.00 (0.47%)
HUMNL 10.80 Decreased By ▼ -0.08 (-0.74%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.16 (0.57%)
MLCF 87.51 Increased By ▲ 1.00 (1.16%)
OGDC 322.50 Increased By ▲ 2.54 (0.79%)
PAEL 40.24 Increased By ▲ 0.82 (2.08%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.48 (2.88%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 5.94 (2.23%)
PPL 230.48 Increased By ▲ 2.30 (1.01%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 70.09 Increased By ▲ 0.38 (0.55%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.06 (0.51%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے بدھ کے روز کہا کہ امیر ممالک ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کریں، بصورت دیگر وہ ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک کو ہرجانہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔

چھوٹے جزیرہ ممالک اور ماحولیاتی گروپوں نے اس فیصلے کو بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک کو جوابدہ بنانے کے لیے قانونی سنگ میل قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی کے ”ہنگامی اور وجودی خطرے“ سے نمٹنا چاہیے اور اخراج میں کمی کے ٹھوس اہداف کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

جج یوجی ایواساوا نے کہا کہ ماحولیاتی معاہدوں کی ”سخت ذمہ داریوں“ کی عدم تعمیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ریاستیں اپنی دائرہ اختیار میں موجود کمپنیوں کے اقدامات کی بھی ذمہ دار ہیں۔ فوسل فیول کی پیداوار اور سبسڈیز کو قابو نہ کرنے کی صورت میں متاثرہ ممالک کو بنیادی ڈھانچے کی بحالی، ماحولیاتی نظام کی تعمیر نو اور مالی ادائیگیوں سمیت مکمل ازالہ دینا پڑ سکتا ہے۔

وانواتو کے وزیر ماحولیات رالف ریگن وانو نے فیصلے کو غیر متوقع طور پر مضبوط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رائے ”ماحولیاتی انصاف کی جدوجہد کا ایک طاقتور ہتھیار“ ہے۔

جج ایواساوا نے کہا کہ قومی ماحولیاتی منصوبے بلند ترین عزائم پر مبنی ہوں اور 2015 کے پیرس معاہدے کے اہداف پورے کریں تاکہ عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ”صاف اور پائیدار ماحول کا انسانی حق دیگر انسانی حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے“۔

فیصلہ پابند نہ ہونے کے باوجود قانونی اور سیاسی طور پر اثر رکھتا ہے اور مستقبل کے ماحولیاتی مقدمات اسے نظرانداز نہیں کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ عالمی سطح پر ماحولیاتی احتساب کے نئے دور کا آغاز ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ صنعتی ممالک، جو سب سے زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، مسئلے کے حل میں قیادت کریں۔

Comments

Comments are closed.