BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبرییسس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری قحط انسانی ساختہ ہے، جو امدادی سامان کی ترسیل پر عائد بلاک کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جنیوا سے بدھ کے روز ورچوئل پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 100 سے زائد امدادی تنظیموں نے بھوک کے بڑھتے خطرے پر انتباہ جاری کیا ہے جبکہ ٹنوں خوراک، صاف پانی اور طبی سامان غزہ کی سرحدوں کے باہر رکا ہوا ہے۔

ٹیڈروس نے کہا میں نہیں جانتا کہ اسے انسان ساختہ قحط کے علاوہ اور کیا کہا جائے، اور یہ بالکل واضح ہے کہ اس کی وجہ بلاک ہے۔ اسرائیل نے مارچ 2025 میں حماس کے خلاف جنگ کے دوران غزہ میں تمام سپلائیز روک دی تھیں، جو مئی میں جزوی طور پر بحال کی گئیں لیکن سخت پابندیوں کے ساتھ، جنہیں اسرائیل امداد کے عسکری گروپوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم امداد غزہ تک پہنچ رہی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ شب بھوک سے مزید 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جس کے بعد بھوک سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 111 ہو گئی ہے، جن میں زیادہ تر حالیہ ہفتوں میں لقمۂ اجل بنے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2025 میں اب تک کم از کم 21 بچوں کی موت شدید غذائی قلت کے باعث ہوئی ہے، لیکن اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ غذائی قلت کے علاج کے مراکز ہنگامی خوراک کے لیے ناکافی سپلائی کے باعث بھر چکے ہیں، جبکہ امدادی راستے منقطع ہونے سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

ادارے نے بتایا کہ مارچ سے مئی تک تقریباً 80 دن تک خوراک کی ترسیل مکمل طور پر بند رہی اور اب بھی امداد ناکافی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے نمائندے رِک پیپرکورن کے مطابق صرف جولائی میں 5,100 بچوں کو غذائی قلت کے پروگراموں میں شامل کیا گیا، جن میں سے 800 شدید طور پر کم وزن تھے۔

Comments

Comments are closed.