بی این پی سربراہ اختر مینگل کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی، کوئٹہ ایئرپورٹ پر پرواز سے آف لوڈ کردیا گیا
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے صدر سردار اختر جان مینگل کو اتوار کے روز بین الاقوامی پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا، جب امیگریشن حکام نے ان کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفیکیشن لسٹ( پی این آئی ایل) میں ہونے کا حوالہ دیا، جو بین الاقوامی سفر پر پابندی کے لیے استعمال کی جانے والی واچ لسٹ ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق اختر مینگل کو کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دبئی جانے والی ایک نجی ایئرلائن کی پرواز سے آف لوڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان کا نام پی این آئی ایل میں ہونے کی وجہ سے انہیں سفر سے روکا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بات کرتے ہوئے اختر مینگل نے اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ایئرپورٹ پر امیگریشن عملے نے انہیں اطلاع دی کہ ان کا نام پی این آئی ایل میں درج ہے اور اسی وجہ سے وہ سفر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا میری دبئی جانے کی فلائٹ تھی لیکن بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مجھے آف لوڈ کر دیا گیا۔
اس اقدام کی بی این پی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ اور غلام نبی مری نے اس اقدام کو ’’غیر قانونی اور غیر آئینی‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اختر مینگل تاحال قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور ان کا دیا گیا استعفیٰ تاحال باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوا۔
بی این پی رہنماؤں نے کہا حکومت کے پاس کسی موجودہ ایم این اے کے بین الاقوامی سفر پر پابندی لگانے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور متعلقہ حکام سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا۔
اختر مینگل، جو وفاقی ایوان میں بلوچستان کے حقوق اور جبری گمشدگیوں کے معاملے پر نمایاں آواز ہیں، پر عائد سفری پابندی کو سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقے بڑے پیمانے پر اختلافی آوازوں پر کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔


Comments
Comments are closed.