BR100 Increased By (0.82%)
BR30 Increased By (1.08%)
KSE100 Increased By (0.77%)
KSE30 Increased By (0.82%)
BAFL 56.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
BIPL 23.50 Increased By ▲ 0.19 (0.82%)
BOP 27.61 Increased By ▲ 0.10 (0.36%)
CNERGY 12.85 Increased By ▲ 0.13 (1.02%)
DFML 15.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.19%)
DGKC 182.65 Decreased By ▼ -0.65 (-0.35%)
FABL 91.12 Increased By ▲ 0.42 (0.46%)
FCCL 52.63 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
FFL 12.96 Decreased By ▼ -0.01 (-0.08%)
GGL 19.50 Decreased By ▼ -0.16 (-0.81%)
HBL 284.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
HUBC 191.25 Increased By ▲ 2.63 (1.39%)
HUMNL 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
KEL 5.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.52%)
LOTCHEM 22.82 Decreased By ▼ -0.11 (-0.48%)
MLCF 90.22 Decreased By ▼ -0.19 (-0.21%)
OGDC 302.50 Increased By ▲ 0.04 (0.01%)
PAEL 32.80 Increased By ▲ 0.05 (0.15%)
PIBTL 13.03 Decreased By ▼ -0.18 (-1.36%)
PIOC 232.50 Decreased By ▼ -1.00 (-0.43%)
PPL 214.40 Decreased By ▼ -0.87 (-0.4%)
PRL 95.45 Decreased By ▼ -0.64 (-0.67%)
SNGP 89.85 Decreased By ▼ -0.35 (-0.39%)
SSGC 22.69 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.73 Increased By ▲ 0.02 (0.3%)
TPLP 11.93 Increased By ▲ 0.41 (3.56%)
TRG 53.40 Decreased By ▼ -1.31 (-2.39%)
UNITY 7.68 Decreased By ▼ -0.04 (-0.52%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.02 (-2.08%)

خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر ڈرون حملوں کے بعد سپلائی سے متعلق خدشات اور گرمیوں کی مضبوط طلب کے دوران محدود مارکیٹ کی بنیادی صورتحال ہے۔

برینٹ کروڈ کے سودے 29 سینٹ یا 0.40 فیصد اضافے سے 69.81 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کے سودے 27 سینٹ یا 0.42 فیصد اضافے کے ساتھ 67.81 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔

عراقی کردستان کے تیل ذخائر پر چار دن تک جاری رہنے والے ڈرون حملوں، جن کی وجہ سے علاقے کی نصف پیداوار بند ہو گئی نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے، جس کے نتیجے میں جمعرات کو دونوں معاہدے ایک ڈالر تک بڑھ گئے۔

مزید برآں موسمی سفری طلب نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ جولائی کے پہلے دو ہفتوں کے دوران عالمی تیل کی طلب اوسطاً 105.2 ملین بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 600,000 بیرل یومیہ زیادہ ہے اور بڑی حد تک پیش گوئی کے مطابق ہے۔

ایل ایس ای جی کی تجزیہ کار آہ فام نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں اس ہفتے مجموعی طور پر مستحکم رہی ہیں، کیونکہ اوپیک پلس کی جانب سے سپلائی میں اضافے کا اثر امریکہ میں مضبوط موسمی طلب نے متوازن کردیا ہے۔

امریکی حکومت کے بدھ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی ہوئی کیونکہ برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا۔

ایشیاء میں بھی طلب میں بہتری آئی کیونکہ ریفائنریاں مرمت کے بعد دوبارہ فعال ہو گئیں، ایسے وقت میں جب موسمی طلب اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ قریبی مدت میں تیل کی بنیادی مارکیٹ کی صورتحال معاون رہنے کا امکان ہے، کیونکہ رواں سہ ماہی کے دوران مارکیٹ کافی حد تک محدود رہے گی، جب کہ سال کے آخری تین مہینوں میں رسد میں بہتری متوقع ہے۔

تاہم، امریکی محصولات کی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال — جو غالباً یکم اگست کے بعد ہی واضح ہو گی — مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں کٹوتیاں ختم کرنے کے منصوبے بھی رسد میں اضافہ کریں گے، خاص طور پر جب شمالی نصف کرہ میں موسمِ گرما کی موسمی طلب ختم ہو جائے گی۔ رواں ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

Comments

Comments are closed.