BAFL 59.20 Increased By ▲ 0.18 (0.3%)
BIPL 27.35 Increased By ▲ 0.18 (0.66%)
BOP 35.80 Decreased By ▼ -0.66 (-1.81%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 1.19 (9.97%)
DFML 18.30 Increased By ▲ 0.10 (0.55%)
DGKC 219.00 Increased By ▲ 0.97 (0.44%)
FABL 100.67 Increased By ▲ 0.27 (0.27%)
FCCL 57.96 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
FFL 16.61 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
GGL 24.84 Increased By ▲ 0.22 (0.89%)
HBL 326.00 Increased By ▲ 1.38 (0.43%)
HUBC 226.15 Increased By ▲ 0.51 (0.23%)
HUMNL 10.72 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.11 (1.5%)
LOTCHEM 27.14 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 103.22 Increased By ▲ 1.15 (1.13%)
OGDC 320.52 Increased By ▲ 1.33 (0.42%)
PAEL 44.01 Increased By ▲ 0.13 (0.3%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.06 (0.36%)
PIOC 278.00 Increased By ▲ 3.16 (1.15%)
PPL 222.52 Increased By ▲ 0.97 (0.44%)
PRL 64.49 Increased By ▲ 0.74 (1.16%)
SNGP 104.35 Increased By ▲ 0.56 (0.54%)
SSGC 27.30 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.11 (1.28%)
TPLP 15.31 Increased By ▲ 0.33 (2.2%)
TRG 63.12 Decreased By ▼ -0.17 (-0.27%)
UNITY 11.66 Increased By ▲ 0.15 (1.3%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر ڈرون حملوں کے بعد سپلائی سے متعلق خدشات اور گرمیوں کی مضبوط طلب کے دوران محدود مارکیٹ کی بنیادی صورتحال ہے۔

برینٹ کروڈ کے سودے 29 سینٹ یا 0.40 فیصد اضافے سے 69.81 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کے سودے 27 سینٹ یا 0.42 فیصد اضافے کے ساتھ 67.81 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔

عراقی کردستان کے تیل ذخائر پر چار دن تک جاری رہنے والے ڈرون حملوں، جن کی وجہ سے علاقے کی نصف پیداوار بند ہو گئی نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے، جس کے نتیجے میں جمعرات کو دونوں معاہدے ایک ڈالر تک بڑھ گئے۔

مزید برآں موسمی سفری طلب نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ جولائی کے پہلے دو ہفتوں کے دوران عالمی تیل کی طلب اوسطاً 105.2 ملین بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 600,000 بیرل یومیہ زیادہ ہے اور بڑی حد تک پیش گوئی کے مطابق ہے۔

ایل ایس ای جی کی تجزیہ کار آہ فام نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں اس ہفتے مجموعی طور پر مستحکم رہی ہیں، کیونکہ اوپیک پلس کی جانب سے سپلائی میں اضافے کا اثر امریکہ میں مضبوط موسمی طلب نے متوازن کردیا ہے۔

امریکی حکومت کے بدھ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی ہوئی کیونکہ برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا۔

ایشیاء میں بھی طلب میں بہتری آئی کیونکہ ریفائنریاں مرمت کے بعد دوبارہ فعال ہو گئیں، ایسے وقت میں جب موسمی طلب اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ قریبی مدت میں تیل کی بنیادی مارکیٹ کی صورتحال معاون رہنے کا امکان ہے، کیونکہ رواں سہ ماہی کے دوران مارکیٹ کافی حد تک محدود رہے گی، جب کہ سال کے آخری تین مہینوں میں رسد میں بہتری متوقع ہے۔

تاہم، امریکی محصولات کی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال — جو غالباً یکم اگست کے بعد ہی واضح ہو گی — مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں کٹوتیاں ختم کرنے کے منصوبے بھی رسد میں اضافہ کریں گے، خاص طور پر جب شمالی نصف کرہ میں موسمِ گرما کی موسمی طلب ختم ہو جائے گی۔ رواں ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

Comments

Comments are closed.