BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.07%)
KSE100 Increased By (0.59%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.66 Increased By ▲ 0.22 (0.38%)
BIPL 25.68 Increased By ▲ 0.48 (1.9%)
BOP 34.36 Increased By ▲ 0.37 (1.09%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.99 Increased By ▲ 0.15 (0.72%)
DGKC 195.52 Increased By ▲ 2.55 (1.32%)
FABL 89.91 Increased By ▲ 0.12 (0.13%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
GGL 19.29 Increased By ▲ 0.32 (1.69%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.82 Decreased By ▼ -0.06 (-0.55%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.60 Increased By ▲ 1.09 (1.26%)
OGDC 323.10 Increased By ▲ 3.14 (0.98%)
PAEL 39.97 Increased By ▲ 0.55 (1.4%)
PIBTL 17.09 Increased By ▲ 0.42 (2.52%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 229.96 Increased By ▲ 1.78 (0.78%)
PRL 34.83 Increased By ▲ 0.15 (0.43%)
SNGP 99.60 Increased By ▲ 0.42 (0.42%)
SSGC 26.85 Increased By ▲ 0.25 (0.94%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.42 (5.07%)
TPLP 8.72 Increased By ▲ 0.50 (6.08%)
TRG 70.00 Increased By ▲ 0.29 (0.42%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیٹھ کر پاکستان ریمیٹینسز انیشی ایٹو (پی آر آئی) کی مالی معاونت کے لیے کوئی مشترکہ راستہ تلاش کریں۔ یہ اسکیم بیرونِ ملک سے ترسیلات کو رسمی ذرائع سے لانے کے لیے دی جانے والی مراعات سے متعلق ہے۔

سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث رواں مالی سال میں اس اسکیم کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں 89 ارب روپے رکھے گئے تھے، تاہم ترسیلات پر دی جانے والی مراعات 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ رقم اسٹیٹ بینک کے منافع سے دی جاتی ہے تو بھی بالواسطہ طور پر وزارت خزانہ ہی ادائیگی کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسکیم پر نظرِثانی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کی مالی معاونت کے لیے اسٹیٹ بینک سے مشاورت جاری ہے۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو سرکاری ذرائع سے ترسیلات کے بدلے دی جانے والی مراعات نئے ”سرکلر ڈیٹ“ کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ اس اسکیم کے تحت ترسیلات پر دی جانے والی سابقہ مراعات – جو کہ فی انکریمنٹل ترسیل 20 سے 30 ریال کے درمیان تھیں – کو اب ایک مقررہ شرح پر 20 ریال فی ٹرانزیکشن کر دیا گیا ہے، جبکہ اہل ترسیل کی کم از کم حد کو 100 ڈالر سے بڑھا کر 200 ڈالر کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں پارلیمانی بجٹ آفس بل 2025 پر بھی غور کیا گیا، جو رکن قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان کی جانب سے پیش کیا گیا۔ اس بل کا مقصد پارلیمنٹ کی بجٹ سے متعلق نگرانی، شفافیت اور اختیار کو بہتر بنانا ہے۔

سیکریٹری خزانہ نے اس حوالے سے کہا کہ بجٹ آفس کے قیام کے لیے قانون سازی کی ضرورت نہیں، اور اگر اسے قائم کیا بھی جائے تو یہ ایک محدود دائرہ کار کا ادارہ ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے اس بل پر تفصیلی غور کے لیے ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جس میں ارکان علی زاہد، ارشد عبداللہ ووہرا اور محمد مبین عارف شامل ہوں گے۔ یہ ذیلی کمیٹی 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اجلاس میں سیکریٹری صنعت و پیداوار کی غیر حاضری پر کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور الیکٹرک وہیکل پالیسی سے متعلق ایجنڈا آئٹم مؤخر کر دیا۔

اس کے علاوہ، کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کردہ ”سوال نمبر 40“، عالیہ کامران کی جانب سے ”سوال نمبر 38“، سید رفی اللہ کی جانب سے وفاقی محکموں میں کم از کم تنخواہ کے نفاذ سے متعلق معاملہ، اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن سید افتخار حسین نقوی کی جانب سے موصول شدہ ”اسلامی بینکاری“ سے متعلق معاملے کو بھی آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.