امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی افریقہ پر عائد کردہ ٹیرف کے باعث تقریباً 1 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے، جن میں زرعی اور آٹوموٹیو شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، یہ بات جنوبی افریقہ کے مرکزی بینک کے گورنر لیسیٹجا کگانیاگو نے بدھ کے روز بتائی۔
لیسیٹجا کگانیاگو نے مقامی ریڈیو اسٹیشن 702 کو بتایا کہ افریقہ کی سب سے بڑی معیشت پر یکم اگست سے نافذ ہونے والا 30 فیصد ٹیرف کچھ صنعتوں کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے پر اس کا اثر تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ زراعت میں بڑی تعداد میں کم ہنر یافتہ افراد کام کرتے ہیں، اور یہاں متاثر ہونے والی مصنوعات میں ترش پھل، انگور اور شراب شامل ہیں۔
گورنر نے مزید بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپریل میں گاڑیوں پر عائد ٹیرف کے بعد جنوبی افریقہ کی امریکہ کو کار برآمدات میں 80 فیصد سے زائد کمی واقع ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے کوئی متبادل اقدامات نہ کیے تو اس کے نتیجے میں تقریباً 100,000 ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں، اور یہی چیلنج ہمارے سامنے ہے۔
جنوبی افریقہ پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سرکاری بیروزگاری کی شرح 32.9 فیصد رہی، جبکہ وسیع تر تعریف کے مطابق یہ شرح 43.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
کسانوں کی تنظیموں نے بھی ٹیرف کے سٹرِس، میکڈیمیا گری دار میوے، انگور، شراب، فروٹ جوس اور شتر مرغ کی کھال کی پیداوار پر منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔
صرف ترش پھلوں کے شعبے میں ہی یہ ٹیرف 35,000 ملازمتوں کو خطرے میں ڈال چکے ہیں اور ویسٹرن کیپ کے علاقے سِٹریس ڈال جیسے شہروں کو بربادی سے دوچار کرنے کا خدشہ ہے، جہاں کی معیشت امریکہ کو برآمدات پر انحصار کرتی ہے۔


Comments
Comments are closed.