BR100 Increased By (0.65%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.29 Increased By ▲ 0.30 (0.88%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.51 Increased By ▲ 1.01 (0.35%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.78 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
MLCF 87.24 Increased By ▲ 0.73 (0.84%)
OGDC 322.20 Increased By ▲ 2.24 (0.7%)
PAEL 39.84 Increased By ▲ 0.42 (1.07%)
PIBTL 16.95 Increased By ▲ 0.28 (1.68%)
PIOC 270.20 Increased By ▲ 4.14 (1.56%)
PPL 229.75 Increased By ▲ 1.57 (0.69%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
TELE 8.61 Increased By ▲ 0.33 (3.99%)
TPLP 8.63 Increased By ▲ 0.41 (4.99%)
TRG 69.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)

عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے دی گئی 50 روزہ مہلت نے فوری سپلائی بحران کے خدشات کو کم کر دیا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 29 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 68.92 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز 35 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 66.63 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ گزشتہ سیشن میں دونوں کانٹریکٹس میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ اینالسٹ پریانکا سچدیوا نے کہا کہ روسی تیل پر پابندیوں کے حوالے سے ٹرمپ کے نسبتاً نرم مؤقف نے سپلائی کی کمی کے خدشات کو کم کیا ہے، جبکہ اُن کے ٹیرف منصوبے معاشی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

ابتدائی خبروں پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، تاہم 50 روزہ مہلت کے باعث تاجر پرامید ہو گئے کہ شاید پابندیاں مؤخر ہو جائیں، اور امریکی فیصلے کی حتمی نوعیت پر غیر یقینی نے مارکیٹ کو نیچے گرا دیا۔

بینک آئی این جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگر ٹرمپ نے واقعی یہ پابندیاں نافذ کر دیں، تو “یہ تیل کی عالمی منڈی کی صورتحال کو یکسر بدل سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین، بھارت اور ترکی روسی تیل کے بڑے خریدار ہیں، اور انہیں رعایتی روسی تیل کے فوائد کے مقابلے میں امریکہ کو کی جانے والی برآمدات پر ممکنہ نقصان کا حساب لگانا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتہ کو یورپی یونین اور میکسیکو سے آنے والی بیشتر درآمدات پر یکم اگست سے 30 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جو عالمی تجارت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی معیشت سست ہوتی ہے تو ایندھن کی طلب بھی متاثر ہوگی، جس سے تیل کی قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب اوپیک کے سیکرٹری جنرل نے ایک روسی میڈیا رپورٹ میں کہا کہ تیسری سہ ماہی میں عالمی تیل کی طلب ”بہت مضبوط“ رہے گی، جو مختصر مدت میں مارکیٹ کو متوازن رکھے گی۔

ادھر، گولڈمین سیکس نے پیر کے روز سال 2025 کی دوسری ششماہی کے لیے تیل کی قیمتوں کی پیشگوئی میں اضافہ کر دیا ہے، اور اس کی وجہ سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں، او ای سی ڈی ممالک میں کم ہوتی ہوئی اسٹاکس اور روس میں پیداوار کی حد بندی کو قرار دیا۔

Comments

Comments are closed.