اسٹاک مارکیٹ: آخری گھنٹوں میں منافع خوری کا دباؤ، 100 انڈیکس کی تیزی مندی میں بدل گئی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے روز اتار چڑھاؤ کا سیشن دیکھا گیا جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں تیزی اور مندی ریکارڈ کی گئی تاہم کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 550 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
مارکیٹ نے کاروباری دن کے شروع میں مثبت زون میں آغاز کیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران ریکارڈ بلند ترین سطح 137,747.60 پوائنٹس پر جا پہنچا۔
تاہم آخری گھنٹوں میں منافع خوری کے باعث تمام اضافے ختم ہوگئے اور انڈیکس کم از کم سطح 135,826.40 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 135,939.87 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 562.66 پوائنٹس یا 0.41 فیصد کی کمی ہے۔
کاروبار کے آغاز پر مختلف اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹوموبائل اسمبلی، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری شامل ہیں۔ انڈیکس میں وزن رکھنے والے شیئرز جیسے کہ اے آر ایل، حبکو، ماری، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل مثبت زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
پیر کے روز بھی اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جس میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور بڑھتے ہوئے سرمایہ کار اعتماد نے مارکیٹ کو نئی تاریخی بلند سطح پر پہنچایا۔ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,203 پوائنٹس (1.64 فیصد) کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 136,502.54 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی دیکھی گئی، جبکہ امریکی ڈالر نے اپنی قدر برقرار رکھی کیونکہ تجارتی مذاکرات رواں ہفتے کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جس دوران امریکی افراط زر کے اہم اعداد و شمار اور بینکوں کی آمدنی کی رپورٹس سامنے آئیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے 50 دن کی ڈیڈ لائن دینے اور توانائی کی پابندیوں کی دھمکی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی۔ جاپانی گورنمنٹ بانڈز کی پیداوار ایک بار پھر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ ایوانِ بالا کے اہم انتخابات قریب آ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور میکسیکو پر یکم اگست سے 30 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے باوجود تجارتی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ جاپان کی حکومت رواں ہفتے امریکی حکام سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے، جن کی ممکنہ تاریخ جمعہ کو طے کی جا رہی ہے۔
نیشنل آسٹریلیا بینک کے اسٹریٹیجسٹ روڈریگو کیٹرل کے مطابق، ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود مارکیٹ کا ردعمل قدرے پر سکون رہا ہے، لہٰذا رواں ہفتے امریکہ میں کمپنیوں کی مالی رپورٹس مزید سمت کا تعین کریں گی۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک اسٹاکس کا جامع انڈیکس 0.4 فیصد اوپر رہا، جبکہ امریکی مارکیٹس گزشتہ سیشن میں معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئیں۔ جاپان کا نیکی انڈیکس بھی 0.2 فیصد بڑھ گیا۔
ادھر یورپی یونین نے امریکہ پر تجارتی معاہدے کی کوششوں کی مخالفت کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یورپی یونین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مزید مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یومیوری اخبار کے مطابق جاپان کے وزیراعظم شیگیریو ایشیبا جمعہ کے روز امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ٹوکیو میں ملاقات کرنے والے ہیں، تاکہ یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے ٹیرف سے متعلق مذاکرات کیے جا سکیں۔


Comments
Comments are closed.