اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ایندھن کی شدید قلت اب ”انتہائی سنگین سطح“ تک پہنچ چکی ہے، جو پہلے ہی تباہ کن جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں انسانی تکالیف کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سات ایجنسیوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں بقا کا انحصار ایندھن پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپتالوں، پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام، ایمبولینسوں، اور تمام انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے ایندھن ناگزیر ہے، حتیٰ کہ تنور اور بیکریاں بھی ایندھن کے بغیر نہیں چل سکتیں۔
غزہ میں ایندھن کی یہ قلت 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر مہلک حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے جاری ہے۔ مگر اب صورتحال شدید بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام، اور اقوام متحدہ کی انسانی امدادی ایجنسی (او سی ایچ اے) سمیت اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ”تقریباً دو سال کی مسلسل جنگ کے بعد، غزہ کے عوام انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہیں، جن میں خوراک کی شدید قلت بھی شامل ہے۔“
بیان میں کہا گیا جب ایندھن ختم ہو جائے گا، تو یہ بھوک کے دہانے پر کھڑے لوگوں پر ایک ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال دے گا۔
اقوام متحدہ کے مطابق، اگر مناسب مقدار میں ایندھن فراہم نہ کیا گیا تو وہ ایجنسیاں جو غزہ میں شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں، اپنے تمام امدادی آپریشن بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب ہو گا: نہ صحت کی سہولیات دستیاب ہوں گی، نہ صاف پانی، اور نہ ہی امداد کی ترسیل کی کوئی گنجائش ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایندھن کے بغیر غزہ میں انسانی امدادی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ایندھن کی کمی کے باعث بیکریاں اور کمیونٹی کچن بند ہو جائیں گے، پانی کی پیداوار اور نکاسی کا نظام رک جائے گا، جس سے لوگ صاف پانی سے محروم ہو جائیں گے، اور گلیوں میں کوڑا کرکٹ اور گندے پانی کے انبار لگ جائیں گے۔


Comments
Comments are closed.