پاکستانی حکومت نے منگل کو 4 گروپوں کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) میں حصہ داری کے لیے ممکنہ بولی دہندگان کے طور پر منظور کر لیا ہے۔
پاکستان نے 51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت کی کوشش کی ہے تاکہ مالی وسائل اکٹھے کیے جا سکیں اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جا سکیں، جیسا کہ سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں تجویز کیا گیا ہے۔
یہ ملک کی پہلی بڑی نجکاری ہو گی تقریباً دو دہائیوں میں۔
بولی دہندگان میں ایک کنسورشیم ہے جس میں بڑے صنعتی ادارے جیسے لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔
دوسرا گروپ سرمایہ کاری کمپنی عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ہے، جس میں کھاد ساز کمپنی فاطمہ فرٹیلائزر، نجی تعلیمی ادارہ دی سٹی اسکول اور رئیل اسٹیٹ فرم لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔
مزید برآں فوجی فرٹیلائزر کمپنی اور پاکستانی ایئرلائن ایئربلیو کو بھی پی آئی اے میں حصہ داری کے لیے بولی لگانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد علی نے ایک بیان میں کہا کہ پری کوالیفائیڈ فریقین اب خریداری کے فیز میں واجب الادا جانچ پڑتال (ڈیو ڈیلیجنس) کے مرحلے میں داخل ہوں گی۔
وزیر موصوف کے مطابق یہ جائزہ مرحلہ دو سے ڈھائی ماہ تک جاری رہے گا جب کہ حتمی بولی اور مذاکرات کا عمل 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کے لیے لین دین کا ڈھانچہ ( ٹرانزیکشن اسٹرکچر) منظور کر لیا ہے جس میں براہ راست فروخت یا طویل مدتی لیز دونوں آپشن شامل ہیں۔
وزیر نجکاری محمد علی نے پہلے رائٹرز کو بتایا تھا کہ روزویلٹ ہوٹل سے پاکستان کو رواں سال ابتدائی طور پر 10 کروڑ ڈالر سے زائد رقم حاصل ہونے کی توقع ہے۔


Comments
Comments are closed.